کراچی (رفیق مانگٹ) ایران کے خلاف جاری جنگ نے صرف 10دنوں میں امریکی خزانے پر 28کھرب94ارب روپے (10.35 ارب ڈالر) کا بھاری بوجھ ڈال دیا ہے، جبکہ ابتدائی 2 دنوں میں 15 کھرب 65 ارب 88 کروڑ روپے(5.6 ارب ڈالر )مالیت کا گولہ بارود استعمال کیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق امریکہ اس تنازع پر اوسطاً4کھرب روپے( 1.43 ارب ڈالر )روزانہ خرچ کر رہا ہے، جنگی کارروائیوں کے دوران امریکہ نے ایران پر 2 ہزار جدید ہتھیار استعمال کیے، جن میں ہر ایک ٹوماہاک میزائل کی قیمت تقریباً 56 کروڑ روپے(2 ملین ڈالر) بتائی جاتی ہے اور ان حملوں میں 5 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب فوجی نقل و حمل پرساڑھے 16 ارب روپے( 59 ملین ڈالر )روزانہ جبکہ خطے میں تعینات امریکی بحری بیڑوں پر4 ارب 19 کروڑ روپے( 15 ملین ڈالر) یومیہ خرچ ہو رہے ہیں۔ ایرانی جوابی حملوں میں قطر میں3 کھرب 7ارب روپے (1.1 ارب ڈالر) مالیت کا ریڈار سسٹم تباہ ہوا، کویت میں 83 ارب 88 کروڑ روپے( 300 ملین ڈالر )کے تین ایف-15 طیارے ضائع ہوئے اور ایران نے 4 MQ-9 ریپر ڈرون بھی مار گرائے، جس سے امریکی فوجی سازوسامان کو مجموعی طور پر 7 کھرب 13 ارب روپے(2.55 ارب ڈالر )کا نقصان پہنچا۔ جنگ کے اثرات عالمی معیشت تک پھیل گئے ہیں اور صرف ایک ہفتے میں عالمی مالیاتی منڈیوں سے9687 کھرب 78 ارب روپے( 3.5 ٹریلین ڈالر )مالیت ختم ہونے جبکہ مجموعی نقصان 15938 کھرب47 ارب روپے(5.7 ٹریلین ڈالر) تک پہنچنے کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ دفاعی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو جنگی اخراجات 30 دن میں 120 کھرب روپے( 43 ارب ڈالر)، اور چھ ماہ میں 724کھرب روپے(259 ارب ڈالر) تک پہنچ سکتے ہیں۔