اسلام آباد (اے پی پی) سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ قتل کے مجرم والد کو پھانسی دینا عدالتی سرپرستی میں اس کی بیٹی کو یتیم کرنے کے مترادف ہوگا۔فیصلہ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے تحریر کیا جس میں کہا گیا ہے کہ مجرم محمد امین اپنی 15 سالہ بیٹی انسا امین کا واحد زندہ سہارا ہے اس لیے سزائے موت برقرار رکھنا مناسب نہیں۔سپریم کورٹ نے بیوی اور بیٹی کے قتل کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے مجرم محمد امین کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے اس کی سزا پھانسی سے تبدیل کر کے عمر قید کر دی۔ عدالت نے واضح کیا کہ سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنا جرم کو معاف کرنا نہیں بلکہ اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ ریاست کسی بچے کی مکمل بے سہارگی کی وجہ نہ بنے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے کنونشن کے تحت بچوں کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔