کراچی (رفیق مانگٹ) تقریباً 10 ہزار معروف مصنفین نے مصنوعی ذہانت کمپنیوں کی جانب سے تخلیقی کام کو بغیر اجازت استعمال کرنے کے خلاف احتجاجاً ایک خالی کتاب شائع کرنے کا اعلان کیا ہے۔مصنفین کا کہنا ہے کہ اصل کام کو اے آئی کمپنیوں کے ذریعے بغیر اجازت استعمال کیا جاتا ہے، مصنفین نے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے ۔ اس مہم کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں مصنفین کے کام کو اپنی اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ اس احتجاجی مہم میں معروف اور، نوبیل انعام یافتہ ادیب شامل ہیں۔اس خالی کتاب کا عنوان Don’t Steal This Bookرکھا گیا ہے۔ مصنفین کا کہنا ہے کہ اگر ان کے اصل کام کو اے آئی کمپنیوں کے ذریعے بغیر اجازت استعمال کیا جاتا ہے تو پھر یہ خالی کتاب اس بات کی علامت ہے کہ تخلیق کاروں کے حقوق کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب برطانیہ میں اے آئی اور کاپی رائٹ قوانین کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ رپورٹوں کے مطابق حکومت تخلیقی شعبے کے شدید ردعمل کے بعد اے آئی سے متعلق کاپی رائٹ قوانین پر فوری فیصلہ کرنے سے گریز کر رہی ہے۔