• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران کی آبنائے ہرمز پر گرفت مضبوط، بھارت جانے والے تھائی جہاز پر حملہ، طویل جنگ عالمی معیشت تباہ کردے گی، ایران

دبئی/تہران (اے ایف پی /نیوزڈیسک ) امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے اور تہران کی جوابی کارروائیاں جاری ‘ایران نے انتباہ کیا ہے کہ طویل جنگ عالمی معیشت تباہ کردیگی،‘ایران میں 10ہزار سویلین مقامات پر بمباری ‘16ایرانی کشتیاں تباہ کرنے کا دعویٰ‘لبنان میں ہلاکتیں 630 ہوگئیں‘ حزب اللہ اور ایران کا شمالی اسرائیل پر مشترکہ میزائل حملہ تہران کے کویت‘ قطر‘ سعودی عرب اور عرب امارات سمیت کئی خلیجی ریاستوں پر میزائل اور ڈرون حملے ‘دبئی ایئرپورٹ پر 4 افراد زخمی‘ابوظبی کے پرانے ایئرپورٹ پر آگ بھڑک اٹھی ‘بغداد ایئرپورٹ کے قریب بھی چار ڈرون حملے ‘عمان کی صلالہ بندرگاہ پر ڈرون حملوں میں ایندھن کے ٹینکوں کو نشانہ بنایا گیاجس کے بعد بندرگاہ کے آپریشنز معطل کردیئے گئے ‘ایران کی آبنائے ہرمز پر گرفت مضبوط ہوگئی ‘تین بحری جہاز نشانہ بن گئے جن میں انڈیا جانےو الا تھائی لینڈکا جہاز بھی شامل ہے‘ بھارت کی وزارت خارجہ نے واقعے کی مذمت کی ہے جبکہ رائل تھائی نیوی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جہاز پر عملے کے 23 ارکان سوار تھے۔ عمان کی بحریہ نے عملے کے 20 ارکان کو بچا لیا ہے جبکہ باقی افراد کو نکالنے کا عمل جاری ہے ۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہناہے کہ ایران میں نشانہ بنانے کے لائق کچھ نہیں بچا‘جب چاہوں جنگ ختم کر سکتا ہوں ‘ ایران میں کارروائی ختم نہیں ہوئی‘ ہم پہلے سے زیادہ برا کر سکتے ہیںجبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیاہے کہ جنگ ختم کرنے کا واحد راستہ ایران کے آئینی حقوق کو تسلیم کرنا، جنگ کے ہرجانےکی ادائیگی اور مستقبل میں کسی بھی جارحیت کے خلاف مضبوط بین الاقوامی ضمانتیں فراہم کرنا ہے‘اطالوی وزیراعظم جارجیامیلونی نے ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کو خطرناک رجحان قرار دیدیاجبکہ اسپین نے اسرائیل سے اپنا سفیر مستقل طور پر واپس بلانے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے ‘ ایران کی خاتم الانبیا کمان نے خبردار کیا ہے کہ تہران ایک لیٹر تیل کو بھی آبنائے ہرمز سے گزر کر امریکا، اسرائیل اور ان کے شراکت داروں تک پہنچنے نہیں دے گا۔ فرانس کے صدرایمانوئل میخواں نے کہا ہے کہ انہیں اس بات کی کوئی تصدیق نہیں ملی کہ ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھا رہا ہے ۔ عالمی توانائی ایجنسی نےآبنائے ہرمز کی بندش کے باعث ہونے والی تیل کی کمی کو پورا کرنے کیلئے 40کروڑ بیرل تیل جاری کرنے کی منظوری دے دی ہےجبکہ تہران نے دھمکی دی ہے کہ تیل کی فی بیرل قیمت 200 ڈالر تک پہنچنے کے لیے تیار ہو جائیں‘جوابی حملوں کی پالیسی ختم کر دی‘اب پے درپے حملے ہوں گے ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی بندرگاہوں کو نشانہ بنایا گیا تو وہ جواب میں خطے کی دیگر بندرگاہوں کو نشانہ بنائیں گے۔ پاسداران انقلاب کاکہنا ہے کہ ایران ایک طویل "اعصابی جنگ" کے لیے تیار ہے جو عالمی معیشت کو "تباہ" کر دے گی۔عراق کے اہم مذہبی رہنما ء آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی نے نئے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کی کامیابی کیلئے دعا کی ہے ‘ امریکا کی سینٹرل کمانڈنے آبنائے ہرمز کے قریب ایران کی 16 بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔سلامتی کونسل کے اجلاس میں اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ حکام اور رکن ممالک نے لبنان میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے‘ اماراتی حکام کا کہناہے کہ ایرانی حملے کے بعد ابوظہبی کے پرانے ہوائی اڈے پر لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔عراقی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے گردونواح میں چار ڈرونز مار گرائے گئے ہیں۔ ادھراسرائیلی فضائی حملوں میں جنوبی لبنان کے دو قصبوں کو نشانہ بنایاگیا ہے ۔بدھ کو امریکا اور اسرائیل نے ایران کے مغربی اورمشرقی علاقوں کو نشانہ بنایاہے‘تہران دھماکوں سے لرز اٹھا ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی افواج نے ملک میں تقریباً10 ہزار سویلین مقامات پر بمباری کی ہے۔ایران کے جوابی حملے جاری ہیں جبکہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران کویت، قطر، سعودی عرب اور عرب امارات سمیت کئی خلیجی ریاستوں نے میزائل اور ڈرون مار گرانے کی اطلاعات دی ہیں۔دوسری جانب اسرائیل نے وسطی بیروت کی ایک رہائشی عمارت اور ملک بھر میں کئی دیگر مقامات کو نشانہ بنایا ہے ۔ علاوہ ازیں بدھ کو دبئی ایئرپورٹ کے قریب دو ڈرون گرے جس کے نتیجے میں چار افراد زخمی ہوئے جبکہ آبنائے ہرمز اور اس کے قریب تین بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔ برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب ایک کنٹینر جہاز اور ایک بلک کیریئر (مال بردار جہاز) کو نامعلوم گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا‘ان میں سے ایک واقعہ دبئی اور دوسراراس الخیمہ کے ساحل پر پیش آیا۔تیسرے جہاز کو عمان کے قریب آبنائے ہرمز میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی جسے بعد میں بجھا دیا گیا۔سعودی عرب نے اپنی پیداوار کے لیے انتہائی اہم شیبہ فیلڈ کو نشانہ بنانے والے ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا جبکہ قطر کی فضائیں بھی دھماکوں سے گونج اٹھیں۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے مشرقی علاقے اور پرنس سلطان ایئر بیس کو نشانہ بنانے والے سات بیلسٹک میزائلوں کو ناکارہ بنا دیا ہے۔دوسری جانب ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں صدر ٹرمپ کاکہنا تھاکہ وہ جب بھی چاہیں جنگ ختم کر سکتے ہیں۔ ایران کے ساتھ جنگ جلد ہی ختم ہو جائے گی کیونکہ اب عملی طور نشانہ بنانے کے لیے ایران میں کچھ نہیں بچا ہے۔

اہم خبریں سے مزید