اسلام آباد (جنگ رپورٹر) نیشنل جوڈیشل (پالیسی میکنگ)کمیٹی نے عدالتی اداروں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی)کے استعمال کے لیے پہلی بار باقاعدہ قومی گائیڈ لائنز جاری کر دیں، اعلامیہ کے مطابق آرٹیفیشل انٹیلی جنس ججوں کی جگہ نہیں لے گی بلکہ ان کے معاون کے طور پر کام کرے گی اور حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار صرف جج کے پاس ہی ہوگا۔ یہ رہنما اصول نیشنل جوڈیشل (پالیسی میکنگ) کمیٹی کے 57ویں اجلاس میں منظور کیے گئے جن کا مقصد ملک بھر کے عدالتی عمل میں مصنوعی ذہانت کو ایک واضح، اصولی اور مستقبل بین فریم ورک کے تحت شامل کرنا ہے،پبلک ریلیشنز آفیسر،ڈاکٹر شاہد حسین کمبوہ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق آرٹیفیشل انٹیلی جنس ججوں کی جگہ نہیں لے گی بلکہ ان کے معاون کے طور پر کام کرے گی اور حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار صرف جج کے پاس ہی ہوگا۔