• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مردان میں دہشت گردوں کا کھلے عام گشت انتہائی تشویشناک ہے، ایمل ولی

پشاور (سٹاف رپورٹر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ ضلع خیبر کے بعد ضلع مردان کے علاقے رستم میں دہشتگردوں کے کھلے عام گشت کی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی حالت کی عکاسی کرتی ہے بلکہ حکومت اور ریاستی اداروں کی کارکردگی پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ دہشتگردوں کا دن دیہاڑے سڑکوں اور شاہراہوں پر گشت کرنا اور شہریوں سے پوچھ گچھ کرنا ریاستی نظام اور پالیسیوں کی کھلی ناکامی ہے۔ ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ سرحد پار دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ کرنے کے دعوے تو کیے جاتے ہیں، مگر پختونخوا میں انہی عناصر کی موجودگی اور نقل و حرکت پر خاموشی کیوں اختیار کی جا رہی ہے؟ ہر واقعے کے بعد ساری ذمہ داری پڑوسی ممالک پر ڈال دینا دراصل اپنی ذمہ داریوں سے راہِ فرار اختیار کرنا ہے۔ اگر ریاست نہ چاہے تو انگور کا ایک دانہ بھی سرحد پار نہیں آ سکتا، پھر یہ دہشتگرد کس راستے سے یہاں پہنچ جاتے ہیں؟ اے این پی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں موجودہ امن و امان کی صورتحال کی بنیادی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی پہلے دن سے یہ مؤقف اختیار کرتی آئی ہے کہ دہشتگردوں کی دوبارہ آباد کاری اور ان کے ساتھ کیے گئے خفیہ معاہدے اس صوبے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ثابت ہوں گے۔ بدقسمتی سے آج حالات نے ثابت کر دیا ہے کہ عمران خان، باجوہ، فیض اور عارف علوی کے گٹھ جوڑ نے اس معاملے میں انتہائی مکروہ کردار ادا کیا۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ بدقسمتی سے اس ساری صورتحال میں خیبر پختونخوا کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت بھی خود کو صوبے کے موجودہ حالات سے بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی کیونکہ امن و امان کا قیام وفاق اور صوبے دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ جب بھی پختونوں کے حقوق، امن اور تحفظ کی بات آتی ہے تو تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن دونوں ایک ہی صفحے پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ موجودہ حالات میں بھی پختونوں کے مسائل سے دونوں جماعتیں مکمل طور پر لاتعلق دکھائی دیتی ہیں۔
پشاور سے مزید