کراچی (اسٹاف رپورٹر)سانحہ گل پلازہ، فائر بریگیڈ نے ذمہ داری بلڈنگ انتظامیہ پر ڈال دی،فائر سیفٹی انتظامات کا فقدان اور ہنگامی راستوں کا بند ہونا جانی نقصان کی بڑی وجہ بنا، چیف فائر آفیسر ، رپورٹ کمیشن میں جمع کرادی ۔ تفصیلات کے مطابق گل پلازہ کراچی میں لگنے والی ہولناک آگ کے حوالے سے قائم انکوائری کمیشن کو فائر ڈپارٹمنٹ نے اپنی تفصیلی رپورٹ جمع کرادی۔ چیف فائر آفیسر محمد ہمایوں خان کی جانب سے جمع کرائی گئی اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عمارت میں فائر سیفٹی کے انتظامات کا فقدان اور ہنگامی راستوں کا بند ہونا جانی نقصان کی بڑی وجہ بنا۔ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے فائر ڈپارٹمنٹ نے گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے حوالے سے قائم جوڈیشل انکوائری کمیشن کو اپنا تحریری جواب اور دستاویزی ثبوت جمع کرادیے ہیں۔ رپورٹ میں آگ لگنے کے بعد کی صورتحال، امدادی کارروائیوں میں حائل رکاوٹوں اور جانی نقصان کی وجوہات پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق آگ کی پہلی اطلاع رات 10 بج کر 26 منٹ پر ملی اور ایک منٹ کے اندر پہلی فائر ٹینڈر روانہ کر دی گئی جو 10:37 بجے جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ تاہم، ٹریفک کی بھیڑ اور عوام کے بے پناہ رش کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو پہنچنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ جب فائر بریگیڈ پہنچی تو پوری عمارت آگ اور دھوئیں کی لپیٹ میں تھی۔ چیف فائر آفیسر نے اپنی رپورٹ میں جانی نقصان کی درج ذیل بڑی وجوہات بیان کی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پہلی منزل سے اوپر اور بیسمنٹ کی طرف جانے والے ہنگامی اخراج کے راستے بند تھے۔ لوگوں کے عمارت سے نکلنے سے پہلے ہی بجلی بند کردی گئی تھی اور عمارت میں ایمرجنسی لائٹس کا کوئی نظام موجود نہیں تھا جس کی وجہ سے لوگ اندھیرے میں پھنس کر رہ گئے۔ عمارت میں نہ تو آگ بجھانے والا خودکار نظام (اسپرنکلرز) تھا اور نہ ہی کوئی فائر الارم بجا۔ وہاں کوئی ایسا عملہ یا فلور وارڈن موجود نہیں تھا جو ہنگامی صورتحال میں لوگوں کی رہنمائی کرسکتا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صبح تقریباً 8 بج کر 15 منٹ پر جب عمارت کا ایک حصہ گرا، تب یہ اندازہ ہوا کہ عمارت کا ڈھانچہ انتہائی کمزور ہو چکا ہے۔ اسی اثناء میں امدادی کارروائیوں مصروف فائر فائٹر فرقان نے جام شہادت نوش کیا۔ فائر ڈیپارٹمنٹ نے قرار دیا ہے کہ یہ سانحہ فائر سیفٹی پروٹوکولز کی سنگین خلاف ورزی اور بلڈنگ ریگولیشنز پر عمل نہ کرنے کا تنیجہ ہے۔ عمارت میں سیفٹی انتظامات نہ ہونا سول ڈیفنس آرڈر 1987 اور کراچی بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشنز 2002کی صریح خلاف ورزی تھی۔ دوسری جانب گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں لگنے والی ہولناک آگ کے محرکات جاننے کے لیے قائم کردہ جوڈیشل انکوائری کمیشن نے کے ایم سی کے چیف فائر آفیسر کو 16 مارچ 2026 تک تمام ریکارڈ سمیت پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔