تہران، کراچی (اے ایف پی، نیوز ڈیسک) امریکا اور اسرائیل کی بمباری میں ایران کی اعلیٰ سیکورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی اور بسیج فورس کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی شہید ہوگئے ، اسرائیلی فوج کے مطابق علی لاریجانی پر حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ اپنے بیٹے کے ساتھ ایک خفیہ اپارٹمنٹ میں موجود تھے،ایران کے سرکاری میڈیا نے دونوں اعلیٰ عسکری قائدین کی شہادت کی تصدیق کردی ہے ،ایران کی نیشنل سپریم سیکورٹی کونسل نے بتایا کہ علی لاریجانی کا بیٹا اور محافظ بھی حملے میں شہید ہوگئے ہیں، دوسری جانب برطانوی نیوز ایجنسی نے سینئر ایرانی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے ثالث ممالک کی جانب سے مذاکرات کیلئے ثالثی کی پیشکش مسترد کردی ہے ، اہلکار نے بتایا کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے سپریم لیڈر نامزد ہونے کے بعد خارجہ پالیسی کے اپنے پہلے سیشن کی صدارت کی، اور اعلان کیا کہ یہ امن کے لیے موزوں وقت نہیں ہے جب تک کہ امریکااور اسرائیل کو گھٹنے ٹیکنے، شکست تسلیم کرنے اور ہرجانہ ادا کرنے پر مجبور نہ کر دیا جائے۔دوسری جانب امریکا میں انسداد دہشت گردی مرکزکے سربراہ ’جو کینٹ‘ نے ایران کے خلاف حملے پر احتجاجا مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کیخلاف جاری جنگ کی اپنے ضمیر کے خلاف جا کر حمایت نہیں کر سکتے،ایران سے ہمیں فوری طور پر خطرہ نہیں تھا،ہم نے یہ جنگ اسرائیل کی ایماء اور امریکا میں موجود اس کی لابی کے دباؤ پر شروع کی،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے رد عمل میں کہا کہ انہیں جو کینٹ کے بیان پر افسوس ہوا ہے، جوکینٹ کہتے ہیں کہ ایران کوئی خطرہ نہیں تو ان کا جانا بہتر ہے ،ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ عارضی ہے اور جلد ہی قیمتیں واپس ہوجائیں گی ،آبنائے ہرمز سے جلد ہی جہاز گزرنا شروع ہوجائیں گے، ٹرمپ نے سوشل ٹروتھ پر کہا کہ اکثر نیٹو اتحادی ممالک کی طرف سے امریکا کو کہا گیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں حصہ لینا نہیں چاہتے، ہمیں اس قدر عسکری کامیابی ملی ہے، ہمیں نیٹو ممالک کی مدد کی ضرورت ہےاور نہ ہی ہمیں اس کی خواہش ہے، ہمیں کبھی ان کی ضرورت نہیں تھی،نیٹو نے آبنائے ہرمز سے متعلق آپریشن میں شامل نہ ہوکر سنگین غلطی کی ہے،ٹرمپ نے اس پیغام میں جاپان، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا کا بھی ذکر کیا ہے،انہوں نے کہا کہ انہیں اتحادی ممالک کے اقدام سےحیرت نہیں ہوئی ۔متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر، انور قرقاش کا کہنا ہے کہ ان کا ملک آبنائے ہرمزکی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے امریکاکی قیادت میں ہونے والی بین الاقوامی کوششوں میں شامل ہو سکتا ہے،فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں کا کہنا ہے کہ فرانس آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لئے کسی بھی فوجی آپریشن میں حصہ نہیں لے گا، فرانس ایک ایسے اتحاد کی تیاری پر کام جاری رکھے ہوئے ہے جو دشمنی کے خاتمے کے بعد جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنا سکے۔چین نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے درمیان خطے کے ممالک کو انسانی امداد فراہم کرنے کا اعلان کردیا ہے ،برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ’چین نے ایران، اردن، لبنان اور عراق کو فوری انسانی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، امید ہے کہ اس سے ان ممالک کے عوام کو درپیش انسانی مصائب کو کم کرنے میں مدد ملے گی،ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاقان فیدان کا کہنا ہے کہ وہ ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے خاتمے کی کوشش کے لیے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کا دورہ کریں گے،سعودی عرب کے وزیر داخلہ عبدالعزیز بن سعود نے اپنے قطری ہم منصب شیخ خلیفہ بن حمد آل ثانی کے ساتھ ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے، جس میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے علاقائی اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا،سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں سعودی وزیر داخلہ نے کہاہم نے خلیجی ممالک اور خطے پر جاری وحشیانہ ایرانی حملوں کے تناظر میں حالیہ پیش رفت کے سکیورٹی مضمرات پر بات چیت کی ہے،انہوں نے مزید کہامیں نےانہیں یقین دلایا ہے کہ مملکت ہر اس اقدام میں قطر کے ساتھ کھڑی ہے جو وہاں کے شہریوں اور رہائشیوں کی سلامتی اور تحفظ کا باعث بنے،عبدالعزیزبن سعود نے اسی طرح کا ایک فون کال متحدہ عرب امارات کے نائب وزیراعظم اور وزیر داخلہ شیخ سیف بن زاید آل نہیان کو بھی کیا۔