کابل/جنیوا (اے ایف پی /نیوزڈیسک ) آپریشن غضب للحق میں پاک فوج کی کارروائیاں جاری ہیں۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق طور خم سیکٹر میں پاک فوج کے حملے میں افغان طالبان کی پوسٹ تباہ ہوگئی۔ افغان حکومت نے دعویٰ کیاہے کہ کابل میں منشیات کے عادی افراد کے علاج کے ایک مرکز پر پاکستانی فضائی حملے میں 408افرادہلاک اور 265زخمی ہوگئے ہیں ‘طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نےاپنے ردعمل میں کہاہے کہ اسلام آباد کے ساتھ سفارت کاری اور مذاکرات کا وقت ختم ہوچکا ہے ‘ان حملوں کا بھرپور جواب دیں گے اور اس کا بدلہ لیا جائے گا۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے ترجمان ثمین الخیطان نے واقعے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا تاکہ ذمہ داروں کا بین الاقوامی معیار کے مطابق احتساب کیا جا سکےجبکہ یورپی یونین نے فریقین سے تحمل برتنے کا مطالبہ کیا ہے۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لِن جیان نےاس امید کا اظہار کیا ہے کہ کہ افغانستان اور پاکستان تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جلد مذاکرات اور جنگ بندی پر اتفاق کریں گے۔ یورپی کمیشن کے ترجمان انوار الانونی نے برسلز میں ایک میڈیا کانفرنس کے دوران بتایاکہ کابل میں طبی سہولت کے مرکز پر حملہ اس تنازع میں ایک نئی اور مہلک شدت کی علامت ہے جسے جلد از جلد ختم ہونا چاہیے۔