کراچی ( رفیق مانگٹ)ایران جنگ ایک غیر معمولی اور دو رُخی موڑ اختیار کر چکی ہے، جہاں جنگ اب صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات عالمی سیاست کے اندرونی ڈھانچوں تک پھیل گئے ہیں۔امریکی اسٹیبلشمنٹ میں تقسیم کا سامنا ، جو کینٹ کا استعفیٰ، جنگی پالیسی پر پہلا بڑا امریکی اختلاف ہے، لاریجانی کی شہادت کی اطلاعات، ایران کی قیادت براہ راست نشانہ، جنگ خطرناک مرحلے میں داخل ہوگئی ہے ، علی لاریجانی سینئر سیاسی رہنما، سابق اسپیکر اور اسٹریٹجک فیصلوں میں اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیت ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ایک طرف امریکا کے اندر سیاسی بحران نے جنم لیا ہے، جبکہ دوسری طرف ایران میں قیادت کو براہ راست نشانہ بنانے سے ایک نیا بحران سامنے آیا ہے۔امریکا کے اندر اس پالیسی کے خلاف پہلی بڑی بغاوت اس وقت سامنے آئی جب امریکی انسداد دہشتگردی کے سربراہ جو کینٹ نے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ایران امریکا کے لیے کوئی فوری خطرہ نہیں تھا اور یہ جنگ اسرائیلی دباؤ اور غلط معلومات کے نتیجے میں شروع کی گئی۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ استعفیٰ ٹرمپ انتظامیہ کے اندر پہلی کھلی اور بڑی مخالفت ہے، جس نے جنگ کے جواز پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور یہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ کے اندر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔