لندن (اے ایف پی، جنگ نیوز) ڈیٹا ٹریکرز نے منگل کو اشارہ دیا ہے کہ ایران اب اپنی پسند کے "دوست ممالک" کے بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے رہا ہے۔پاکستانی جہاز ’’کراچی‘‘ سمیت پانچ جہازوں نے لوکیشن آن کرکے آبنائے کو عبور کیا۔ ایرانی افواج نے اس گزرگاہ کو بند کر رکھا ہے جہاں سے امن کے دور میں دنیا کے تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ سمندری انٹیلی جنس فرم ʼونڈورڈʼ (Windward) نے منگل کو اپنی تجزیاتی رپورٹ میں بتایا کہ 15 اور 16 مارچ کو کم از کم پانچ بحری جہاز ایرانی حدود کے ذریعے آبنائے ہرمز سے باہر نکلنے میں کامیاب رہے۔ رپورٹ کے مطابق: "یہ نیا راستہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران کی ʼمخصوص ناکہ بندیʼ اب اس نہج پر پہنچ گئی ہے جہاں وہ اپنے اتحادیوں اور حامیوں کو گزرنے کی اجازت دے رہا ہے۔" امریکی جریدے بلوم برگ کے مطابق پاکستانی ٹینکر کا آبنائے ہرمز سے گزرنا ایران کے منظور شدہ راستے کی نشاندہی کرتا ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ جہازوں کو گزرنے کےلیے ایرانی منظوری لازمی ہے۔