کراچی (اسٹاف رپورٹر) سانحہ گل پلازہ کمیشن کے سربراہ جسٹس آغا فیصل کو پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ نے اپنی رپورٹ کے ذریعے آگاہ کیا ہے کہ سانحہ گل پلازہ سے بیشتر لاشیں مکمل طور پر جلی ہوئی لائی گئیں جن کا پوسٹ مارٹم مکمل کرنا بھی ناممکن تھا تاہم ہلاکتوں کی اہم وجہ آگ اور دھویں کے باعث دم گھٹنا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پولیس سرجن کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مجموعی طور پر 8 زخمی افراد کو طبی امداد کے لئے لایا گیا۔ 73 لاشیں لائی گئیں جن میں7 لاشیں مکمل اور 66 جلی ہوئی باقیات تھیں۔ پوسٹ مارٹم میں موت کی بنیادی وجہ دم گھٹنا پایا گیا۔ بیشتر لاشوں کی باقیات 100 فیصد جلی ہوئی تھیں۔ باقیات کا مکمل پوسٹ مارٹم نہیں ہوسکا ہے۔ دستیاب شواہد کی روشنی میں امکان ہے متاثرہ افراد آگ لگنے کے وقت زندہ تھے، مکمل لاشوں پر معمولی نوعیت کی چوٹوں کے نشانات پائے گئے۔ یہ نشانات بھگڈر، عمارت گرنے یا بڑے حادثے سے مطابقت نہیں رکھتے۔ مرحلہ وار لاشیں نکلنے سے نشاندہی ہوتی ہے کہ متاثرین طویل وقت تک عمارت کے اندر پھنسے ہوئے تھے۔ زہریلی گیس یا کیمیکلز کی موجودگی جانچنے کے لئے نمونے حاصل کئے گئے۔