تہران /منامہ(اے ایف پی /نیوز ڈیسک ) ایران کے پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیل میں مختلف مقامات اور خلیج میں تین امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہےجبکہ عراق کے سکیورٹی ذرائع کے مطابق پیر کے روز عراقی قصبے رابعہ سے شمال مشرقی شام میں قائم ایک امریکی فوجی اڈے کی جانب کم از کم سات راکٹ داغے گئے ۔اتوارکو جاری بیان پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ اس نے ڈرونز کی مدد سے اسرائیل کے ’شمالی، وسطی اور جنوبی‘ علاقوں کو نشانہ بنایا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے اس نے تین امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے جن میں کویت میں واقع علی السالم بیس‘ سعودی عرب میں الخرج بیس اور متحدہ عرب امارات میں واقع الظفرہ فوجی اڈہ شامل ہے۔ پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا تضادپر مبنی رویہ جنگی محاذ پر کسی قسم کی غفلت کا باعث نہیں بنے گا۔ادھرپیر کے روز بحرین میں کئی زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور فضائی حملے کے انتباہی سائرن گونج اٹھے۔ خلیج میں یہ اس نوعیت کے پہلے دھماکے ہیں جو صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات کے دعوے کے بعد سنے گئے ہیں۔اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تہران پر حملوں کے دوران ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آرجی سی )کے مرکزی سکیورٹی ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا ہے ۔فرانسیسی توانائی کمپنی ٹوٹل انرجیزکے سربراہ پیٹرک پویانے نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمزنہ کھلی توموسم گرما تک ایل این جی کی قیمتیں انتہائی بلند سطح پرپہنچ سکتی ہیں ۔