کراچی (اسد ابن حسن) ایف آئی اے کا ایک اعلی افسر تین برس تک ایک ٹریول ایجنسی کے ملازم سے فضائی ٹکٹس بنواتا رہا اور اس ٹریول ایجنسی کا 40 لاکھ روپے کا مقروض ہو گیا اور پھر جو ملازم اس کو ٹکٹ فراہم کرتا تھا اس کا نمبر ہی بلاک کر دیا۔ مذکورہ ٹریول ایجنٹ نے اس حوالے سے بتایا کہ اس نے اعلی افسر کے والد اور کراچی میں موجود تمام سرکلز کے افسران اور دیگر ملازمین سے بھی اس حوالے سے بات کی مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا اور اب وہ تحریری شکایت بمعہ تمام ثبوتوں کو لے کر ڈی جی ایف آئی اے سے ملنے اسلام آباد جا رہا ہے اس کا مزید کہنا تھا کہ اس نے جن ٹریول ایجنسیوں سے ٹکٹس خریدے تھے اب وہ اس سے بار بار تقاضے کر رہے ہیں اور نئے ٹکٹس بھی جاری نہیں کر رہے۔ تفصیلات کے مطابق مذکورہ افسر ایف آئی اے سائبر کرائم میں تعینات رہے اور پھر بعد میں نئی ایجنسی نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی میں بھی تعینات ہو گئے۔ ان کی رہائش کراچی بحریہ ٹاؤن میں تھی مگر فیملی لاہور میں۔ اسی لیے وہ ہر ہفتے جمعہ کی شام کو لاہور روانہ ہوتے اور پیر کی صبح واپس کراچی آجاتے اس کے علاوہ مہینے میں کم از کم ایک مرتبہ اسلام آباد کا چکر بھی لگتا تھا۔ موصوف دیگر ایف آئی اے افسران کی طرح ایک فری لانس ٹریول ایجنٹ جو تمام سرکللز میں جانا پہچانا ہے اور تمام افسران اور ملازمین اسی سے فضائی ٹکٹ خریدتے ہیں تو انہوں نے بھی اس سے ٹکٹ بنوانا شروع کر دیے۔ جب این سی سی آئی اے میں آپریشن شروع ہوا تو مذکورہ افسر نے خاموشی سے اپنا تبادل واپس ایف آئی اے میں کروا لیا اور پھر کورس پر کراچی چلے گئے اور وہ اب بھی کراچی میں کورس کر رہے ہیں۔ تین برس میں فضائی ٹکٹس کی رقم 40 لاکھ تک پہنچ گئی۔ اس کے بعد ٹریول ایجنٹ نے ان سے ہر ممکنہ ذرائع سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر کامیابی نہ ہوئی اور سب نے یہی جواب دیا کہ یہ مذکورہ افسر اور اس کا ذاتی معاملہ ہے اور وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ افسر نے اپنی موبائل سم تبدیل کر لی جس کی وجہ سے نہ وہ ٹریول ایجنٹ اس سے رابطہ کر پا رہا ہے اور نہ ہی ایف آئی اے اور این سی سی آئی اے کے افسران بھی۔ مزکورہ ٹریول ایجنٹ اپنی تحریر درخواست اور تمام ثبوتوں جس میں واٹس ایپ میسجز اور وائس میسجز اور ٹکٹوں کی کاپیاں شامل ہیں لے کر اسلام آباد پہنچ گیا ہے۔