اسلام آباد (رپورٹ حنیف خالد) قومی احتساب بیورو (نیب اسلام آباد/راولپنڈی) نے نیشنل ہاؤس بلڈنگ اسکینڈل، المعروف لکی علی کیس، کے 787متاثرین کو اضافی یا نتیجہ خیز منافع کی ادائیگیوں کا عمل شروع کر دیا ہے جن کا پہلے سراغ نہیں مل سکا تھا۔ نیب (اسلام آباد/راولپنڈی )حکام کے مطابق اس سے قبل مکمل تحقیقات کے بعد متاثرین کو ان کی اصل رقوم واپس کر دی گئی تھیں، تاہم 787 افراد کی نشاندہی ممکن نہیں ہو سکی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم نے سفارش کی تھی کہ قواعد کے مطابق ان افراد کے چیکس منسوخ کر دیے جائیں، جس سے رقم ملزمان کو واپس جانے کا خدشہ تھا۔ تاہم چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد کی ہدایت پر ڈی جی نیب اسلام آباد/راولپنڈی وقار چوہان نے متاثرین کی تلاش کے عمل کو جاری رکھنے کا حکم دیا۔ ڈی جی نیب کی نگرانی میں انٹیلی جنس ونگ، انویسٹی گیشن ونگ اور دیگر متعلقہ اداروں پر مشتمل ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی، جس نے کئی ماہ تک مسلسل کوششیں جاری رکھیں۔ حکام کے مطابق متاثرین کے شناختی کارڈ نمبرز کی مدد سے متعلقہ ٹیلی کام کمپنیوں سے رابطہ کیا گیا اور ان کے فعال موبائل نمبرز حاصل کیے گئے۔ ان نمبرز کے ذریعے متاثرین کے موجودہ رہائشی پتے معلوم کیے گئے، جس کے بعد ان سے براہِ راست رابطہ قائم کیا گیا۔