• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا ایران ممکنہ مذاکرات، کشیدگی کے خاتمے کی کوششیں، صورتحال پیچیدہ

کراچی (رفیق مانگٹ) امریکا ایران ممکنہ مذاکرات، کشیدگی کے خاتمے کی کوششیں، صورتحال پیچیدہ، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ٹرمپ رابطہ، برطانوی اخبار کے مطابق پاکستان کا کردار ابھرنے لگا، ایران امریکا تنازع میں ممکنہ مرکزی ثالث، سینئر ایرانی عہدیدار کیساتھ مذاکرات، ٹرمپ کا کہنا ہے کئی اہم نکات پر اتفاق ہو چکا، اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی ملاقات متوقع، امریکی وفد کی نمائندگی نائب صدر وینس کرینگے، مذاکرات میں تقریباً 15 متفقہ نکات زیر غور آئیں گے۔ ابتدا پر دونوں فریقین کے درمیان ہم آہنگی، محمد باقر قالیباف امریکا کیساتھ مذاکرات کی قیادت کر رہے ہیں، بیک چینل سفارتکاری، پاکستان، مصر و ترکی متحرک، تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے وٹکوف و عراقچی سے علیحدہ مذاکرات کیے۔ مائیکل کگلمین نے بتایا پاکستان امریکا میں ایرانی مفادات کی نمائندگی کرتا ہے، پاکستان کا جھکاؤ عسکری کے بجائے سفارتی حل پر ہے، امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے کی کوششوں سے متعلق متضاد بیانات اور سفارتی سرگرمیوں نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے، جہاں ایک جانب ٹرمپ نے پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے، وہیں ایرانی قیادت نے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے، جبکہ پاکستان سمیت متعدد ممالک بیک چینل سفارتکاری میں متحرک دکھائی دیتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے نمائندے ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں اور کئی اہم نکات پر اتفاق رائے پیدا ہو چکا ہے۔ تاہم انہوں نے اس ایرانی شخصیت کا نام ظاہر کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ وہ اس کی جان کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے۔ دوسری جانب ایرانی حکومت نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ کوئی براہِ راست مذاکرات نہیں ہوئے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق خطے کے چند ممالک کشیدگی کم کرنے کی کوششیں ضرور کر رہے ہیں، تاہم امریکا کے بیانات کو مالیاتی منڈیوں کو پرسکون کرنے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسمعیل بقائی نے بھی اشارہ دیا کہ کچھ دوست ممالک کی جانب سے ایسے پیغامات موصول ہوئے ہیں جن میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کی جانب سے مذاکرات کی درخواست کا ذکر ہے، سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے رپورٹ کیا۔ ادھر برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر نے اتوار کو امریکی صدر ٹرمپ سے بات چیت کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان خود کو ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے لیے ایک مرکزی ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے اور سینئر پاکستانی حکام ایرانی عہدیداروں اور امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اورجیرڈ کشنر کے درمیان بیک چینل رابطے کروا رہے ہیں۔ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر نے ان اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی بات چیت نہیں ہوئی اور دعویٰ کیا کہ ٹرمپ صرف توانائی کی منڈیوں کو پرسکون کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کے بڑھتے ہوئے اتفاق رائے کے دعوؤں کے باوجود، مذاکرات سے آگاہ ایک ذریعے نے کہا کہ قالیباف اور ٹرمپ کی ٹیم کے درمیان ابھی تک کوئی براہ راست بات چیت نہیں ہوئی تھی۔ قالیباف نے خود بھی اس بات کی تردید کی اور امریکی دعوؤں کو منڈیوں میں ہیرا پھیری اور اس دلدل سے نکلنے کی کوشش قرار دیا جس میں امریکا اور اسرائیل پھنسے ہوئے ہیں۔ ایک اسرائیلی عہدیدار نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے ساتھ رابطے میں تھے۔ ذرائع کے مطابق مصر، پاکستان اور ترکی نے اتوار کو امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات پہنچائے اور پیر کو قالیباف اور ٹرمپ کی ٹیم کے درمیان براہ راست کال قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

اہم خبریں سے مزید