کراچی ( جنگ نیوز)ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف تہران میں تیزی سے ایک مرکزی حیثیت اختیار کرتے جا رہے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے نتیجے میں ایران کی سیاسی قیادت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس صورتحال میں وہ ایک نہایت اہم شخصیت بن کر ابھرے ہیں۔مغربی خبررساں ادارے ʼرائٹرزʼ کے مطابق کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک اسرائیلی اہلکار اور ایک باخبر ذریعے کے مطابق، قالیباف نے حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مذاکرات بھی کیے ہیں، جو ان کے بڑھتے ہوئے کردار کی نشاندہی کرتا ہے۔تاہم ایک ایرانی نیوز ایجنسی فارس نیوز ایجنسی نے اس کی تردید کی ہے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق سابق پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر، تہران کے میئر، قومی پولیس چیف اور صدارتی امیدوار رہنے والے قالیباف اب سیاسی، سکیورٹی اور مذہبی اشرافیہ کے درمیان ایک اہم رابطہ بن چکے ہیں۔ایران پر اچانک حملے اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے تقریباً تین ہفتے بعد، تہران کی قیادت ایک طویل اور کٹھن جنگی حکمتِ عملی کے تحت اپنے مخالفین کا مقابلہ کر رہی ہے۔قالیباف، جنہیں طویل عرصے سے خامنہ ای کا قریبی ساتھی اور ان کے بیٹے مجتبی ٰ خامنہ ای کا معتمد سمجھا جاتا ہے، اسرائیل اور امریکہ کے خلاف سخت مؤقف رکھنے والوں میں شامل ہیں۔ انہوں نے خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ اور بنجمن نیتن یاہو کو مخاطب کرتے ہوئے سخت انتقامی کارروائی کی دھمکی دی۔انہوں نے ایک ٹی وی خطاب میں کہا: “میں ان دو گندے مجرموں اور ان کے ایجنٹوں سے کہتا ہوں کہ تم نے ہماری سرخ لکیر عبور کی ہے اور تمہیں اس کی قیمت چکانی ہوگی۔”یہ سخت بیانیہ ان کے اس نظریاتی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے جو اسلامی جمہوریہ کے مذہبی نظام کی مضبوط حمایت پر مبنی ہے، اور وہ اندرونی اختلاف کو کچلنے میں بھی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔تاہم اس سخت گیر امیج کے باوجود، قالیباف نے ایک جدیدیت پسند اور عملیت پسند رہنما کے طور پر بھی شہرت حاصل کی۔ 2005 کے صدارتی انتخابات میں انہوں نے خود کو ایک تربیت یافتہ پائلٹ کے طور پر پیش کیا تاکہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت کو اجاگر کر سکیں۔