• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران جنگ، پاکستان کے ایل این جی اسٹاکز تقریباً ختم، برطانوی اخبار

کراچی (رفیق مانگٹ) ایران جنگ، پاکستان کے ایل این جی اسٹاکز تقریباً ختم، برطانوی اخبار کے مطابق پاکستان گیس پورٹ کے ٹرمینلز کی کارروائیاں معمول کے چھٹے حصے تک محدود، درآمدی گیس کی قلت، بجلی کیلئے فرنس آئل پر انحصار بڑھ گیا، ایل این جی کی متبادل خریداری پر ناکامی، قیمتیں بہت زیادہ، قطر اور اٹلی کی کمپنیوں سے کارگو کی ترسیل میں تاخیر، ملک کا آئندہ انحصار غیر یقینی، پاکستان کا یورپ، عمان، امریکہ، آذربائیجان و افریقہ کے سپلائرز سے بھی رابطہ، مگر قیمتیں بہت زیادہ، پاکستان عالمی ایل این جی بحران کے باعث شدید توانائی کے دباؤ کا شکار ہے، کیونکہ ایران جنگ کے بعد ملک کے ایل این جی اسٹاکز تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور درآمدی کارگو کے متبادل مہنگے اور محدود ہیں۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق پاکستان خاص طور پر نازک صورتحال میں ہے، کیونکہ پچھلے سال اس کے تقریباً 99 فیصد ایل این جی امپورٹس قطر سے آتی تھیں۔ ایران کی جنگ کے دوسرے اور تیسرے دنوں میں ملک کے آخری کارگو راس لافان سے پہنچے، جس کے بعد ملک کے دونوں ایل این جی امپورٹ ٹرمینلز نے اپنی کارروائیوں کو معمول کے چھٹے حصے تک کم کر دیا اور ماہ کے آخر تک گیس کی ترسیل مکمل طور پر بند ہونے کا خطرہ ہے۔ پاکستان گیس پورٹ کے چیئر اور چیف ایگزیکٹو اقبال احمد کے مطابق، آنے والے دنوں میں ٹرمینلز میں ایل این جی ختم ہو جائے گی۔ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے قبل اسلام آباد میں ایل این جی کی اوور سپلائی تھی، اور حکومت نے قطر انرجی اور اٹلی کی Eni سے شیڈول کارگو دوبارہ بھیجنے کی درخواست کی تھی، لیکن جنگ کے بعد یہ کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔

اہم خبریں سے مزید