اسلام آباد(صالح ظافر) پاکستان میں امریکی قائم مقام سفیرنتالی اے بیکر اسلام آباد واپس آ گئی ہیں۔ ان کی واپسی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ پاکستان کا دارالحکومت ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کا مرکز بن سکتا ہے۔نرم گفتار امریکی سفارتکار جنوری 2025 سے اسلام آباد میں تعینات ہیں اور میزبان ملک کی اعلیٰ قیادت سے مسلسل رابطے میں رہی ہیں، تاہم وہ گزشتہ ماہ کے آخری ہفتے سے بیرونِ ملک تھیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے دی نیوز/جنگ کو بتایا تھا کہ وہ جلد پاکستان واپس آ جائیں گی۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اتوار کوڈونلڈٹرمپ سے خطے کی صورتحال اور جاری تنازع پر بات کی۔سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان پسِ پردہ سفارتکاری کے ذریعے جنگ بندی کے لیے مؤثر کردار ادا کر رہا ہے اور اہم فریقین سے رابطے میں ہے۔ وزیرِاعظم محمد شہبازشریف نے پیر کو ایرانی صدر مسعود پزیشکان سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔وزیرِاعظم نے اس نازک صورتحال میں کشیدگی کم کرنے، مکالمے کی بحالی اور سفارتکاری کے ذریعے مسائل حل کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے امتِ مسلمہ کے درمیان اتحاد کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور یقین دہانی کرائی کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔ذرائع کے مطابق پاکستان اس مسئلے کے حل کے لیے ترکی اور مصر کے ساتھ بھی فعال رابطے میں ہے۔