کراچی (رفیق مانگٹ) خلیجی ریاستوں کا ایرانی سستے ڈرونز کو مار گرانے کے لیے مہنگے لڑاکا طیاروں پر انحصار، ایرانی شاہد-136 ڈرون 56 لاکھ تا 1.39 کروڑ روپے، F-16 فی گھنٹہ لاگت 70 لاکھ روپے سے زائد...دفاعی اخراجات میں بڑا فرق، پیٹریاٹ میزائل کی فی انٹرسیپشن لاگت 1.11 ارب، امریکہ کی جانب سے مشرق وسطیٰ کو 10,000 یوکرینی انٹرسیپٹر ڈرونز کی فراہمی، اسرائیل کا فی انٹرسیپشن تقریباً صفر لاگت ماڈل، خلیجی ممالک کی دلچسپی بڑھ گئی۔ برطانوی اخبار کے مطابق ایرانی ڈرونز کے خلاف لڑاکا طیاروں کا استعمال فوری اور مؤثر دفاع فراہم کر رہا ہے، لیکن اس کی بلند لاگت، آپریشنل دباؤ اور طویل المدتی عدم پائیداری نے خلیجی ممالک کو متبادل، کم لاگت اور جدید دفاعی حل تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق خلیجی ریاستوں اور ان کے اتحادیوں نے ایران کے سست رفتار اور کم بلندی پر پرواز کرنے والے حملہ آور ڈرونز، خصوصاً شاہد-136، کو روکنے کے لیے اعلیٰ درجے کے لڑاکا جیٹ طیاروں کو بڑے پیمانے پر متحرک کیا ہے۔ ان طیاروں کو بنیادی طور پر ایسے اہداف کے لیے ڈیزائن نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ لڑاکا طیارے ڈرونز کو مار گرانے میں مؤثر ثابت ہوئے ہیں، لیکن چوبیس گھنٹے جاری رہنے والا یہ فضائی دفاع مالی اور تکنیکی اعتبار سے انتہائی بھاری پڑ رہا ہے۔ سابق پینٹاگون مشیر لورین کاہن کے مطابق، یہ حکمت عملی طویل مدت میں پائیدار نہیں۔بنیادی وجہ معاشی عدم توازن ہے۔ ایک جانب ایرانی شاہد-136 ڈرون کی قیمت تقریباً 56لاکھ سےایک کروڑ 39 لاکھ روپے(20 ہزار سے 50 ہزار ڈالر )کے درمیان ہے، جبکہ دوسری جانب ایک ایف 16 کو ایک گھنٹہ فضا میں رکھنے کی لاگت 70 لاکھ روپے(25 ہزار ڈالر )سے زائد ہے۔ان ڈرونز کو تباہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ہتھیار بھی انتہائی مہنگے ہیں. AIM-9X سائیڈ ونڈر میزائل کی قیمت تقریباًساڑھ 13 کروڑ روپے( 4 لاکھ 85 ہزار ڈالر) ہے AIM-120 AMRAAM کی قیمت28 کروڑ روپے( دس لاکھ ڈالر )سے زیادہ ہے۔