ماسکو ، بیجنگ (اے ایف پی، جنگ نیوز) روس اور چین نے امریکا اور ایران کے درمیان فوری جنگ بندی اور مذاکرات کا مطالبہ کردیا ہے ، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے پیر کے روز اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ کیا۔روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق، لاوروف نے "فوری جنگ بندی اور ایسے سیاسی تصفیے کا مطالبہ کیا جس میں تمام متعلقہ فریقین، بالخصوص ایران کے جائز مفادات کو مدِنظر رکھا گیا ہو"۔ دوسری جانب چین نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ کی صورتحال ’’قابو سے باہر‘‘ ہو سکتی ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا، ’’اگر جنگ مزید پھیلتی ہے اور صورتحال مزید بگڑتی ہے تو پورا خطہ ایک ایسی حالت میں داخل ہو سکتا ہے جو قابو سے باہر ہو۔‘‘انہوں نے کہا کہ طاقت کا استعمال صرف ایک ’’خطرناک چکر‘‘کو جنم دے گا، اور انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ کشیدگی میں کمی ضروری ہے۔ جنگ کے باعث تیل کی عالمی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، جس کا اثر چین سمیت دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑ رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے چین سمیت دیگر ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے فوجی کردار ادا کریں، تاہم بیجنگ نے اس کا کوئی مثبت اشارہ نہیں دیا۔ چین نے اس کے بجائے اپنے خصوصی ایلچی ژائی جون کو خطے میں بھیجا ہے تاکہ کشیدگی کم کرانے کی کوشش کی جا سکے۔دریں اثناء ایرانی وزیر خارجہ عراقچی نے عمان، جنوبی کوریا، آذربائیجان اور ترکمانستان کے وزراء سے بھی گفتگو کی ہے۔ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق، وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ خلاصے میں بتایا گیا ہے کہ آذربائیجان اور ترکمانستان کے وزراء کے ساتھ گفتگو میں انہوں نے بحیرہ قلزم سے ملحقہ صوبوں پر حالیہ امریکی و اسرائیلی حملوں پر تبادلہ خیال کیا اور "سیکورٹی و ماحولیاتی نتائج سے متعلق خبردار" کیا۔جنوبی کوریا کے وزیرِ خارجہ چو ہیون کے ساتھ ہونے والی کال کے دوران، ہیون نے آبنائے ہرمز کی بندش کے معاشی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔جواب میں، عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ اس اہم بحری راستے میں عدم استحکام امریکا اور اسرائیل کے "غیر قانونی حملوں کا براہِ راست نتیجہ" ہے۔