کراچی(اسٹاف رپورٹر)مصطفیٰ قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا ریٹائرڈڈی ایس پی احسن ذوالفقار کراچی کےنجی اسپتال میں طویل علالت کے بعد جاں بحق ہوگیا، گزشتہ سال فروری میں ڈیفنس سے نوجوان مصطفیٰ عامر کو اغواء کرنے کے بعد زندہ جلاکر قتل کرنے میں ملوث مرکزی ملزم ارمغان کی گرفتار کے لئے پولیس کی جانب سے ملزم ارمغان کے گھر پر چھاپہ کے دوران گھر کے اندر سے ملزم ارمغان نے گرفتاری سے بچنے کیلئے جدید ہتھیاروں سے پولیس پر فائرنگ شروع کردی تھی جس کے نتیجے میں ،سندھ پولیس کے ڈی ایس پی سید احسن ذوالفقار زخمی ہوگئے تھے، کراچی پولیس کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پولیس ڈیپارٹمنٹ ڈی ایس پی سید احسن ذوالفقار کی شاندار خدمات، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور جرات و بہادری کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے،انہوں نے دورانِ سروس نہایت لگن، دیانتداری اور فرض شناسی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیے اور محکمہ پولیس کے وقار میں اضافہ کیا۔خصوصاً ارمغان کیس کی تفتیش کے دوران ڈی ایس پی سید احسن ذوالفقار نے حکمت عملی اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا اس دوران وہ زخمی بھی ہوئے جو ان کی فرض سے وابستگی اور جرات کی واضح مثال ہے۔ڈی ایس پی سید احسن ذوالفقار کی خدمات محکمہ پولیس کے لیے قابلِ فخر ہیں اور انہیں ہمیشہ سنہری الفاظ میں یاد رکھا جائے گا۔سید احسن ذوالفقار ایک بہادر، فرض شناس اور قابل افسر تھے جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں نمایاں خدمات سرانجام دیں۔ڈی ایس پی سید احسن ذوالفقار ایک سینئر پولیس آفیسر کے فرزند تھے۔ سید احسن ذوالفقار کے سوگواران میں ایک بیوہ ،دو بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہیں اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔دریں اثناء مرحوم کی نماز جنازہ 23 مارچ 2026 پیر کوجامعہ مسجد رحمانیہ پی ای سی ایچ ایس طارق روڈ، میں بعد نماز مغرب ادا کی گئی اور تدفین قبرستان متصل جامعہ مسجد رحمانیہ، پی ای سی ایچ ایس، طارق روڈ، کراچی میں کی گئی۔نماز جنازہ میں سندھ پولیس کے اعلیٰ آفسران و اہلکار سمیت عزیز و اقارب اور دوست احباب کی کثیر تعداد شریک ہوئی ۔ ڈی ایس پی احسن زوالفقار جاںبحقایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے کہا ہے کہ ڈی ایس پی احسن ذوالفقار کی شہادت کے بعد ۔لازم ارمغان پر ڈی ایس پی احسن ذوالفقار کے قتل کا اضافی مقدمہ قائم کرکے چالان کیا جائے گا ،نماز جنازہ میں شرکت کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےآئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہاہےکہ ڈی ایس پی احسن ذوالفقار مصطفیٰ عامر قتل کیس میں ارمغان کے گھر چھاپے کے دوران زخمی ہوگئے تھے اور کافی عرصے سے کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے ،آئی جی سندھ نے مرحوم کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے مرحوم کے لیے دعا کی۔اللہ پاک مرحوم کے اہل خانہ کو صبر عطا فرمائے،ڈی ایس پی احسن ذوالفقار ایک بہادر، فرض شناس اور پیشہ ور افسر تھے۔ انہوں نے دورانِ ڈیوٹی جرأت اور بہادری کی اعلیٰ مثال قائم کی۔ان کی خدمات سندھ پولیس کے لیے قابلِ فخر ہیں اور جرائم کے خلاف ان کی جدوجہد ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ جاویدعالم اوڈھوشہداکے خون سے ہی صوبے میں امن ہے۔ سندھ اور شہر میں امن قائم ہوا ہےڈی ایس پی احسن ذوالفقار کے اہلخانہ کے ساتھ غم کی اس گھڑی میں شریک ہیں ارمغان کیس میں ملزمان کو پکڑا تھامزید مقدمہ بھی درج ہوگا اور دفعات شامل ہونگی آج ہی کمیٹی بناتا ہوں اور شہادت کا ثبوت کیا ہوسکتا ہےاتنے عرصے سے بیماری سے لڑتے رہے وہ شہید ہیں سب مراعات ملیں گی مرحوم کے لئے دعا گو ہیں سندھ پولیس کا اہلخانہ حصہ ہیں تفتیش میں کسی قسم کی کمی نہیں رہے، ملزمان کو سخت سزا ملے گی۔