کراچی (اسٹاف رپورٹر)وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک کو ہدایت کی ہے کہ گندم کی نئی فصل کی خریداری کے عمل میں کسی قسم کی تاخیر نہ کی جائے ،فوری طور پر گوداموں کی فومیگیشن (جراثیم کشی)شروع کی جائے اور خاص طور پر ان چھوٹے آبادگاروں سے گندم خریدنے پر توجہ دی جائے جنہیں حکومت کی جانب سے بیج پر سبسڈی دی گئی تھی۔انہوں نے یہ ہدایات وزیراعلی ہاس میں محکمہ زراعت اور محکمہ خوراک کے مشترکہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ اجلاس میں صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزماں، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، سیکریٹری ٹو سی ایم آصف جمیل شیخ، سیکریٹری خوراک عباس نائچ، ڈی جی زراعت اللہ ورایو رند، ڈائریکٹر خوراک اللہ ڈنو چنہ اور دیگر افسران نے شرکت کی۔وزیراعلی سندھ نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی اولین ترجیح چھوٹے آبادگاروں کی مدد کرنا اور گندم کی خریداری اور ذخیرہ اندوزی کے نظام میں شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔اجلاس کے دوران وزیر خوراک مخدوم محبوب الزماں نے وزیراعلی سندھ کو بتایا کہ جولائی 2025 تک 13 لاکھ ٹن سے زائد گندم کا ذخیرہ دستیاب تھا، جس کا بیشتر حصہ مارکیٹ میں جاری کیا جا چکا ہے جبکہ تھوڑی مقدار اب بھی باقی ہے۔باقی ماندہ ذخیرے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلی سندھ نے محکمہ خوراک کو ہدایت دی کہ فوری طور پر باقی گندم فروخت کی جائے تاکہ مارکیٹ مستحکم ہو اور نئی خریداری کے لیے گوداموں میں جگہ پیدا ہو سکے۔ سید مراد علی شاہ نے حکام کو یہ بھی ہدایت دی کہ تمام گندم کے گوداموں کی صفائی اور فومیگیشن کو یقینی بنایا جائے تاکہ اناج کو محفوظ اور صحت بخش طریقے سے ذخیرہ کیا جا سکے۔نئی گندم کی فصل کی خریداری پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ نے محکمہ خوراک کو ہدایت دی کہ فوری تیاری شروع کی جائے اور خریداری کے عمل میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔ انہوں نے مزید فیصلہ کیا کہ گندم کی خریداری میں چھوٹے آبادگاروں کو ترجیح دی جائے، خصوصا ان ہاریوں کو جنہیں سندھ حکومت کی جانب سے بیج کی سبسڈی فراہم کی گئی تھی۔