• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صدرِ پاکستان کو تاحیات استثنیٰ کے حق میں نہیں، بیرسٹر ظفر اللّٰہ

کراچی (ٹی وی رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما بیرسٹر ظفر اللہ خان نے کہا ہے کہ صدرِ پاکستان کو تاحیات استثنیٰ کے حق میں نہیں ہوں۔ تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر علی ظفر نےکہا کہ 1973کا جو اوریجنل آئین تھا ہمیں اُس پر واپس جانے کی ضرورت ہے۔ جبکہ جیو نیوز کے پروگرام ’’کیپٹل ٹاک‘‘ میں میزبان حامد میر نے اپنے تجزیئے میں کہا کہ یوم پاکستان کا فلسطین سے بھی گہرا تعلق ہے۔ تفصیلات کے مطابق پروگرام کے آغاز میں میزبان حامد میر نے کہا کہ 23 مارچ کو جو دوسری قرارداد پاس ہوئی تھی وہ فلسطین کے بارے میں تھی اور جب اسرائیل قائم ہوا تو قائد اعظم نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا۔ کیا پاکستان کی موجودہ پالیسی قائد اعظم کی تعلیمات کے مطابق ہے۔ سینئر رہنما مسلم لیگ نون بیرسٹر ظفر اللہ خان نے کہا کہ میں یوم پاکستان کا سماجیات سے متعلق تجزیہ پیش کرنا چاہوں گا جب محمد بن قاسم سندھ آئے صوفیا آئے علماء آئے اور پھر کمیونٹوں کی اپنی شناخت بنی پھر حکومتیں بننا شروع ہوگئیں ۔ مفکر پاکستان علامہ اقبال کی نظر مشرق و مغرب کی سیاسیات پر نظر تھی اور مسلمانوں کی عمرانی، سیاسی و معاشی زندگی پر ان کی نظر تھی انہوں نے 1930 کے خطبہ میں اسکا اظہار کیا۔ صدرِ پاکستان کو مسلم لیگ نون نے تاحیات استثنیٰ دیا ہے اس کے جواب میں بیرسٹر ظفر اللہ خان نے کہا کہ میں اس کے حق میں نہیں ہوں۔ ہمارے قائدین خالص جمہوری تھے اور ہماری جدوجہد بھی جمہوریت کے اوپر ہے47 کے بعد ہم سے سستی ضرور ہوئی اور مغربی پاکستان کے حقوق نہیں دئیے۔اسرائیل کہتا ہے کہ ویسٹ بینک تک آنا ہے اور اگلی باری ہماری ہے۔قائد اعظم ہمیشہ پارٹی کے اندر الیکشن کراتے تھے جبکہ یہاں پارٹیوں میں الیکشن کے نام پر فراڈ ہوتا ہے اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے بیرسٹر ظفر اللہ خان نے کہا کہ ہم جمہوریت کے لئے تیار ہی نہیں ہے کہ ہر شے کو شعرا ، مشاورت یا جمہوریت سے چلایا جائے ہم اس کو ذہنی طور پر ماننے کے لئے تیار نہیں۔
اہم خبریں سے مزید