• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹرمپ کو جنگ سے نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا، تجزیہ کار

کراچی (ٹی وی رپورٹ) تجزیہ کاروں محمل سرفراز ، سلیم صافی، سید محمد علی اور مظہر عباس نے کہا ہے کہ ٹرمپ کو جنگ سے نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا ہے اگر اس وقت ایران کی ڈیمانڈ پر جنگ بندی ہوگی تو یہ صدر ٹرمپ کی سیاسی ساکھ تباہ کر دے گی ۔وہ جیو نیوز کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ میں گفتگو کررہے تھے۔ تفصیلات کے مطابق میزبان مبشر ہاشمی کے سوال کہ امریکا نے ایران کے پاور پلانٹس پر حملہ پانچ دن کے لئے ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے کیا یہ پیشرفت کشیدگی میں کمی کا آغاز ہے یا بڑے تصادم سے پہلے عارضی وقفہ ہے؟ جواب میں تجزیہ کار محمل سرفراز نے کہا کہ جب صدر ٹرمپ نے یہ اعلان کیا تو دو باتیں سامنے آئیں کہ گلوبل مارکیٹ میں قیمتوں کو نیچے لانے کی کوشش کی گئی ہے دوسری طرف یہ بات بھی کی گئی کہ اگر پاور پلانٹس پر حملہ ہوگا تو ایران نے شدید ردِ عمل کی دھمکی دی ہے لیکن بات جو بھی ہو بنیادی چیز جو نکل کر سامنے آتی ہے وہ امریکہ کی کمزوری ہے اور ایران کے پاس ابھی بھی کھیلنے کے لئے پاور فل کارڈز موجود ہیں جس کی وجہ سے ٹرمپ ایک قدم پیچھے گئے ہیں اور اس جنگ سے نکلنے کا راستہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ ترکی ، مصر اور پاکستان پچھلے دو دن سے امریکہ اور ایران کے درمیان پیغامات رسانی کر رہے ہیں تاکہ اس صورتحال سے نکلا جائے اور ثالثی کی کوششیں چل رہی ہیں۔تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا کہ ٹرمپ کو جنگ سے نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا ہے اس جنگ کے ابھی صرف دو حامی ہیں ایک ٹرمپ اور نیتن یاہو باقی دنیا جتنی بھی ہے وہ مخالف نہ ہو حامی بھی نہیں ہوسکتا ۔ تجزیہ کار سید محمد علی نے کہا کہ پانچ دن اس لئے حاصل کئے گئے ہیں کہ پھر بڑے پیمانے پر حملے کئے جائیں۔ سکیورٹی کونسل میں ایران کے خلاف سخت پابندیوں کی قرارداد زیر غور ہے اور عین ممکن ہے جارحانہ اقدام سے متعلق بھی قرارداد لائی جائے اور یقینا قوی امکان ہے کہ چین اور روس اس کو ویٹو کریں گے۔ نیٹو کے ممبرز ممالک بہت بڑے پیمانے پر طیارے اور اسلحہ پہلے سے تین گنا زیادہ سطح پر مڈل ایسٹ میں لایا جارہا ہے ۔ ٹرمپ کے رویہ سے زیادہ میں ان زمینی حقائق کو اہمیت دیتا ہوں۔ ٹرمپ کے ٹوئٹ کے مطابق یہ مکمل جنگ بندی نہیں ہے ۔ تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا کہ امریکہ و ایران بات چیت کی اطلاعات پر شکوک و شبہات موجود ہیں۔ امریکہ پر دباؤ بڑھ رہا ہے لیکن پھر بھی ٹرمپ اور نیتن یاہو نہیں چاہتے کہ موجودہ قیادت رہے اور ٹرمپ بالکل بھی ایران کے ساتھ کوئی پیشرفت نہیں چاہتے لیکن وہ سمجھ رہے تھے کہ کچھ دن میں سب نمٹ جائے گا۔
اہم خبریں سے مزید