• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دریائے گنگا میں افطار پارٹی کے دوران گوشت والی بریانی کھانے پر 14 مسلمان نوجوان گرفتار

اسلام آباد( صالح ظافر)بھارتی شہر ونارسی میں پولیس نے افطار کے دوران مبینہ طور پر گوشت والی بریانی کھانے پر 14مسلم نوجوانوں کو گرفتار کر لیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، نوجوانوں پر الزام ہے کہ انہوں نے کشتی میں منعقدہ افطار پارٹی کے دوران گوشت کھایا اور ہڈیاں دریا میں پھینکیں۔ اس واقعے کے بعد ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس کے بعد پولیس نے کارروائی شروع کی۔یہ مقدمہ راجت جیسوال کی شکایت پر درج کیا گیا، جوبھارتیہ جنتا یووا مورچہ کے سٹی صدر ہیں، اور یہ تنظیم حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی/بی جے پی کی ذیلی شاخ ہے۔پولیس نے اس کیس میں Indian Judicial Code (BNS) 2023 (انڈین جوڈیشل کوڈ 2023) کی مختلف دفعات شامل کی ہیں، جن میں مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے، مذہبی مقامات میں خلل ڈالنے، نفرت انگیزی اور حکومتی احکامات کی خلاف ورزی جیسے الزامات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پانی کو آلودہ کرنے کے قانونAct, 1974 (واٹر ایکٹ 1974) کی دفعہ 24 بھی شامل کی گئی ہے۔وارانسی پولیس کے اے سی پی کوٹوالی وجے پرتاپ سنگھ نے 14 نوجوانوں کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ 16 مارچ کو ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس میں کچھ افراد کو دریائے گنگا کے مقدس پانی میں کشتی پر افطار کرتے دیکھا گیا، اور بظاہر چکن بریانی کھائی جا رہی تھی۔انہوں نے بتایا کہ اطلاع ملنے پر فوری طور پر مقدمہ درج کیا گیا اور کئی ٹیمیں تشکیل دی گئیں، جنہوں نے ویڈیو کی مدد سے افراد کی شناخت کر کے اب تک 14 افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ دیگر کی تلاش جاری ہے۔دوسری جانب راجت جیسوال کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے، اور انہی کی درخواست پر کوٹوالی تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی۔

اہم خبریں سے مزید