شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے کہا ہے کہ شمالی کوریا جوہری طاقت کی حیثیت کبھی تبدیل نہیں کرے گا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز کم جونگ اُن کو ملک کے اعلیٰ ترین پالیسی ساز ادارے ریاستی امور کمیشن کا دوبارہ سربراہ مقرر کیا گیا۔
شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ میں منعقدہ پارلیمان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم دشمن قوتوں کے خلاف اپنی جدوجہد کو تیز کرتے ہوئے جوہری ریاست کے طور پر اپنی حیثیت کبھی تبدیل نہیں کریں گے۔
سرکاری خبر رساں ادارے کورین سینٹرل نیوز ایجنسی کے مطابق اپنے تفصیلی پالیسی خطاب میں انہوں نے جوہری ہتھیاروں، دفاعی حکمت عملی، معاشی اہداف اور جنوبی کوریا و امریکا کے ساتھ تعلقات سمیت مختلف امور پر بات کی۔
انہوں نے کہا کہ ہم آئین کی جانب سے سونپی گئی ذمہ داری کے مطابق اپنے دفاعی جوہری ڈیٹرنس کو مزید وسعت اور ترقی دیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جوہری ہتھیاروں میں اضافہ کر کے اپنی حیثیت کو مستحکم کرنا مکمل طور پر جائز ہے، جبکہ شمالی کوریا اپنی جوہری قوت کو درست اور فوری تیاری کی حالت میں رکھے گا تاکہ اسٹریٹجک خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔
جنوبی کوریا کے حوالے سے کم جونگ اُن نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے اسے سب سے بڑی دشمن ریاست قرار دیا۔ جنوبی کوریا ہماری سب سے بڑی دشمن ریاست ہے۔ اس کے ساتھ مکمل سختی سے نمٹیں گے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ شمالی کوریا اپنی ریاست کے خلاف کسی بھی اقدام کا بلا امتیاز اور بے رحم جواب دے گا۔
قبل ازیں سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ شمالی کوریا کی پارلیمان نے کم جونگ اُن کو صدرِ امورِ مملکت کے عہدے پر دوبارہ منتخب کر لیا ہے، تاہم اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ یہ فیصلہ متفقہ تھا یا اس میں کوئی اختلاف بھی سامنے آیا۔