کراچی (نیوز ڈیسک) امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق پاکستان کا عالمی امیج بہتر بنانے کیلئے انگریزی نیوز چینلز شروع کرنے کی ترغیب وسیع میڈیا مہم شروع، نئے چینلز پاکستان کا مثبت تاثر دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ دوسری جانب سرکاری اور سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی اخبار کی رپورٹ بالکل غلط ہے، ڈس انفارمیشن کا خاتمہ چاہتے ہیں اور اس کیلئے آزاد میڈیا کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کی بین الاقوامی امیج کو بہتر بنانے کی کوششیں،نئی دوستانہ میڈیا سرگرمیاں اور ریاستی ٹیلی ویژن کی توسیع پاکستان کے پیغام کو فروغ دے رہی ہیں۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی حکومت نے بین الاقوامی سطح پر اپنی شبیہ بہتر بنانے کیلئے ایک وسیع میڈیا مہم شروع کی ہے، جس میں نئے انگریزی زبان کے نیوز چینلز اور پاکستان ٹی وی کی تجدید شامل ہے۔ یہ چینلز اور شعبے ریاست کے موقف کو اجاگر کرنے، بھارت اور طالبان حکومت پر تنقید کرنے اور پاکستانی پالیسی کی حمایت میں خبریں نشر کرتے ہیں۔ تاہم آزاد صحافی اور انسانی حقوق کے گروپس رپورٹ کرتے ہیں کہ سرکاری دباؤ، اشتہارات کی بندش اور گرفتاریوں کے ذریعے آزادی صحافت محدود ہو گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر چند ذرائع ابھی بھی آزاد صحافتی آواز کے لیے کھلے ہیں، جبکہ نئے چینلز عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہ میڈیا مہم پاکستان کی ان تازہ کوششوں کا حصہ ہے جن کے ذریعے وہ خود کو مغرب (بشمول صدر ٹرمپ) کے لیے ایک اہم شراکت دار اور خطے میں ایک سفارتی قوت کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران حکومتی نمائندوں نے صحافیوں سے رابطہ کر کے انہیں ریاست کے لیے سازگار انگریزی زبان کے نیوز آؤٹ لیٹس شروع کرنے کی ترغیب دی ہے۔ان نئے آؤٹ لیٹس کا بنیادی ہدف بھارت اور افغانستان کی طالبان حکومت ہیں۔ یہ چینلز بھارت پر سخت تنقید کرتے ہیں اور افغانستان میں فوجی مہم کو فوجی بیانیے کے مطابق پیش کرتے ہیں۔ایک سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مئی میں بھارت کے ساتھ فوجی تصادم کے بعد سوشل میڈیا پر بھارت نواز مواد کا مقابلہ کرنے کیلئے نئے انگریزی چینلز شروع کرنے کی درخواست کی گئی۔پاکستان قطر کے ʼالجزیرہ یا ترکی کے ʼٹی آر ٹی (TRT) کی طرح کے کامیاب ریاستی چینلز کی نقل کرنا چاہتا ہے، لیکن اسے کئی چیلنجز کا سامنا ہےصحافیوں کا خیال ہے کہ یہ کوششیں بحران ختم ہونے کے بعد دم توڑ سکتی ہیں کیونکہ انکے پاس قطر یا ترکی جیسا مستقل وژن اور فنڈنگ نہیں ہے۔ ʼرپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے مطابق پاکستان پریس فریڈم انڈیکس میں 180 ممالک میں سے 158 ویں نمبر پر ہے۔ دریں اثناء سرکاری اور سیکورٹی ذرائع سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے امریکی اخبار کی رپورٹ کی پرزور تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بالکل غلط ہے۔ آزاد میڈیا کی حوصلہ افزائی کیلئے حکومتی سطح پر اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ پاکستان میں آزاد میڈیا ترقی کرے اور ڈس انفارمیشن کا خاتمہ ہو۔