آپ کے مسائل اور ان کا حل
سوال: کیا خرگوش کے پیشاب کو فرٹیلائزرز کر کے سبزیوں اور فصل کے لیے استعمال کر سکتے ہیں؟ اس کے اندر بہت سے آرگینک ہیں اور کیا خرگوش حلال ہے؟
جواب: خرگوش حلال جانور ہے، رسول اللہ ﷺ سے اس کے کھانے کی اجازت صراحتاً ثابت ہے، صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ہم مقام ’’مرالظہران‘‘ میں تھے کہ ہم نے ایک خرگوش کو شکار کے لیے اس کے ٹھکانے سے دوڑایا، کچھ لوگ اس کے پیچھے دوڑے، لیکن تھک گئے، بالآخر میں نے اسے پکڑا اور ابوطلحہ ؓ کے پاس لے کر آیا، انہوں نے اسے ذبح کیا اور اس کی دونوں رانیں (یا یوں کہا کہ پچھلی ٹانگیں) نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں بھیج دیں، آپ ﷺ نے انہیں قبول فرمالیا۔ (صحیح البخاری، کتاب الذبائح و الصيد)
البتہ حلال جانوروں (گائے، بکری وغیرہ) کے پیشاب کی طرح خرگوش کا پیشاب بھی ناپاک اور نجاستِ خفیفہ ہے، یعنی اگر کپڑے یا جسم پر لگ جائے تو کپڑے کے متاثرہ حصے یا متاثرہ عضو کے چوتھائی سے کم مقدار معاف ہے، اگر متاثرہ حصے یا عضو کے چوتھائی کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو اسے پاک کیے بغیر نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔
لیکن خرگوش کے پیشاب کو فرٹیلائزر(نامیاتی کھاد / Organic fertilizer/Organic manure ) کے طور پر سبزیوں کی کاشت اور دیگر فصل کے لیے استعمال کرنا جائز ہے، اور اس سے اُگنے والی سبزیاں بھی حلال ہیں۔ (رد المحتار، کتاب الحظر و الاباحۃ، 341/6،ط:سعید)
اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
iqra@banuri.edu.pk