• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اتحاد بین المسلمین اور عصر حاضر کے تقاضے

پروفیسر خالد اقبال جیلانی

عالم اسلا م کو ایک بار پھر اپنی تاریخ کی بد ترین و سنگین آزمائشوں اور ابتلاء کا سامنا ہے۔ دشمنان ِ اسلام کی عیارانہ سازشیں اپنی انتہاء پر ہیں۔ سامراجی حکومتوں، طاغوتی طاقتوں اور ابلیسی نظام کی حامل و علمبردار حکومتیں ایک بار پھر اسلامی ممالک کو مزید ٹکڑوں، امّت کو مزید گروہوں اور مسلمانوں کو مزید فرقوں میں تقسیم کرنے کے در پے ہیں۔

اس وقت استکباری نظام کے شیطانی شعلوں سے پوری دنیا بلخصوص عالم اسلام جھلس رہا ہے، اس نظام کا ایجنڈا عالم اسلام کی مکمل تباہی و بربادی اور مسلمانوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکت ہے۔ اسلام مخالف اور مسلمان دشمن عالمی طاقتوں کی مطلق العنانی اور فرعونیت بد مست ہاتھی کی طرح عالم اسلام کی فضاؤں اور بحروبر پر آگ اور خون کا کھیل رہی ہے۔ ان نا گفتہ بہ اور بد ترین عالمی منظر نامے کے پس منظر میں مسلمانوں اور عالم اسلام کا امّت ِواحدہ کی بنیاد پر اتحاد و اتفاق اور اجتماعیت و یگانگت نا گزیر اور از بس لازمی و ضروری ہے۔

اسلام کے بنیادی اور لازمی اصولوں میں سے اولین اور بنیادی اصول یہ ہے کہ مسلمان امّتِ واحدہ یعنی ایک امّت اور آپس میں بھائی بھائی ہیں جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ’’ بےشک تم امتِ واحدہ یعنی سب ایک ہی امّت کے افراد ہو‘‘(سورۂ انبیاء 112) اور اس اتحادو یکجہتی کے ماتحت تمام ایمان والے ، امّت مسلمہ کے سب افراد آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ (سورۂ حجرات 10) 

ان احکام قرآنی پر رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مبارک ’’سونے پر سہاگہ‘‘ کی مانند ہے کہ ’’ مومن مومن کا بھائی ہے، ایک جسدِ واحد کی طرح ‘‘( حدیث مبارکہ) قرآن و حدیث میں تمام مسلمانوں کو ایک امّت، بھائی بھائی اور جسدِ واحد کہا گیا ہے، لیکن ہم نے اسلام کے اس اولین ، بنیادی اور اصولی حکم کو یکسر فراموش کردیا اور پوری امّت کو مسلکی عصبیت، لسانی تعصب اور فرقہ وارانہ گروہوں میں تقسیم کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت امّت مسلمہ اور مسلمان پوری دنیا میں ذلت ورسوائی ، شکست و ہزیمت، تباہی و خوں ریزی اور مغلوبیت کا شکار ہیں۔

مسلمانوں کو حکم تو یہی دیا گیا تھا کہ وہ اپنی مرکزیت ، جامعیت اور وحدت کو ہر گز ہر گز کمزور نہ ہونے دیں، مگر اس کے باوجود آج امّت کا شیرازہ منتشر ہے۔ اس وقت اتحاد، عالم اسلام اور مسلمانوں کا اہم ترین مسئلہ ہے جو تما م ضرورتوں و ترجیحات پر برتری اور اہمیت رکھتا ہے۔

آخر کیا وجہ ہے کہ اسلامی ممالک، مسلمان حکمران امّت مسلمہ اور عالم اسلام کے اتحاد کی اہمیت و ضرورت کو نہیں سمجھ رہے، حالانکہ موجودہ دو ر اور خصوصاً ان دنوں میں مسلمانوں کا اتحاد اور عالم اسلام کی وحدت کا بنیادی تقاضا یہی ہے۔ تمام اسلامی ممالک کا متحد ہو کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا نا گزیر اور ناقابل انکار ضرورت ہے۔

یہ ایک ایسی ضرورت ہے جو فرقہ وارانہ تنگ نظری، گروہی تعصب اور قومی و نسلی امتیازات کو فراموش اور پس پشت ڈال کر فوری طور پر رو بہ عمل لائی جائے اور پوری امّت تمام مسلمان ممالک اور عالم اسلام کو متحد کیا جائے ،اس میں کوئی شک نہیں کہ سامراجی ملکوں اور طاغوتی قوتوں کی سازشیں اور ریشہ دوانیاں اس وقت مسلمانوں کو متحد ہونے سے روکنے کا موثر ترین سبب ہیں۔ لیکن اب وہ وقت آگیا ہے کہ مسلمان حکمران امّت مسلمہ اور عالم اسلام کی بقا کی فکر کریں۔ بلاشبہ امّت مسلمہ کی شکست کا سبب اتحادِ امّت کی جانب مسلمانوں کی عدم پیش رفت ہماری معاشی پسماندگی ،جہالت ، سائنسی علوم سے دوری اور فرقہ وارانہ اختلافات ہیں۔

تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مسلمان علمی اور سائنسی لحاظ سے تمام اقوام اور مذاہب عالم سے پیش رفتہ اور ترقی یافتہ تھے۔ ان کے شہر علم و سائنس اور تجارت و صنعت کا مرکز سمجھے جاتے تھے۔ مسلمان علماء کو اس زمانے کا راہنما و مفکر مانا جاتا تھا۔ عالم اسلام سیاسی، اقتصادی اور علمی و سائنسی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔ آج عالم اسلام کی اس شوکت و عظمت کو کیا ہوا؟ 

مسلمانوں کی وہ یکجہتی کہاں گئی؟ مسلمانوں کی عظمت، عزت، سربلندی قوت و طاقت، سطوت و ہیبت، رعب و دبدبہ، سب کچھ اختلافات کی نذر ہوگیا، فرقہ واریت کا سیلاب بلاخیز سب کچھ خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے گیا۔ اگر مسلمان تعلیمات اسلامی پر کار بند رہتے، تفرقہ بازی سے محفوظ رہ کر قرآن و سنّت کو اجتماعی طور پر مضبوطی سے تھامے رکھتے، اپنے سیاسی و سماجی اتحاد کی حفاظت کرتے تو ان کا آج یہ حشر نہ ہوتا۔ 

آج بھی امّت متحد ہو کر عالم اسلام کے ایک پرچم تلے اکٹھی ہو جائے اور اپنے اختلافات پر بے سود وقت ضائع کرنے کے بجائے تھوڑا سا وقت امت کی فلاح و بہبود اور اتحاد کے لئے نکالیں تو آج بھی ہم ان بد ترین شکست خوردہ اور ہزیمت زدہ حالات سے نکل سکتے ہیں اور بدر و اُحد اور خیبر و حنین کی سی ایک عظیم طاقت کے طور پر نمایاں ہو کر عالم کفر، یہود ہنود اور نصاریٰ کو شکست و ذلت سے دوچار کر سکتے ہیں۔

امّت پر اس بدترین ذلت آمیز، شکست زدہ ہزیمت سے بھر پور وقت میں ہمارے دانشوروں، علماء اور محراب و منبر کا فریضہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو اتحاد و یکجہتی کی اہمیت سے آگاہ کریں اور مسلمان متفقہ طور پر اپنے حکمرانوں کو مل کر عالم اسلام کی کشتی کو پار لگانے پر مجبور کریں۔

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ تمام امّت اور اسلامی فرقوں کے درمیاں بنیادی و اعتقادی قدریں مشترک ہیں۔ اسلامی عقائد کا سارا نظام انہی مشترکہ بنیادو ں پر استوار ہے۔ مسلمانوں میں سے کوئی بھی نا تو کسی اور نبی یا رسول کی شریعت کا انکار کرتا ہے نا ہی اسلام کے سوا کسی اور دین کو مانتا ہے۔ سب مسلمان توحید و رسالت وحی اور کتب سماوی کے نزول، آخرت کے انعقاد، ملائکہ کے وجود حضور ﷺ کی ختم نبوت، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور جہاد کی فرضیت وغیرہ جیسے مسائل پر یکساں ایمان رکھتے ہیں۔ 

آخر کیا وجہ ہے کہ ایک اللہ، ایک نبی، ایک کتاب، ایک دین اور ایک قبلہ و کعبہ کے ماننے والوں کے درمیان دین الٰہیہ کی سر بلندی، اسلام کے غلبہ، مسلمانوں کی فتح کے لئے اتحاد و یگانگت کے لازوال رشتے قائم نہ کئے جاسکیں اور ملتِ واحدہ کا تصور ایک زندہ جاوید حقیقت نہ بن سکے۔

قرآن کریم مسلسل مسلمانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہا ہے کہ ’’ تم ایک ملت اور ایک ہی دین کے لئے منتخب کئے گئے ہو۔ خالق کائنات نے تمہارے لئے وہی دین مقر ر کر دیا ہے جس کے قائم کرنے کا اس نے نوح علیہ السلام کو حکم دیا تھا اور (جو بذریعہ وحی) ہم نے تمہاری طرف بھیج دیا ہے اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ اورحضرت عیسیٰ علیہم السلام کو دیا تھا کہ اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا۔‘‘

قیامت یہ ہے کہ مسلمان اتنی ہدایتوں کے باوجود حصوں اور فرقوں میں تقسیم ہو کر رہ گئے ۔ جس کا سبب یہی ہے کہ ہم مسلمان تو ضرور ہیں ، لیکن صحیح معنوں میں اسلام اور تسلیم کو سمجھے ہی نہیں، اگر سمجھ گئے ہوتے تو اس کے نافذ کردہ قوانین پر عمل پیرا ضرور ہوتے اور اس طرح فرقوں میں نہ بٹتے۔اور اس کے قوانین سے ہرگز ہرگز سرتابی نہ کرتے، اس لئے کہ جب اللہ کے رسول ﷺنے ایمان والوں کو رشتۂ اخوت میں باندھ دیا تھا تو پھر اس سے فرار کیسا؟ ’’اتحاد ‘‘ ایسی چیز ہے کہ نہ صرف عالم انسانیت بلکہ اگر اسے پوری کائنات سے چھین لیا جائے تو اس وسیع کائنات کا نظام منٹو ں میں درہم برہم ہوکر رہ جائے گا۔ آپس میں اختلاف پیدا کرنا گویا ایک شخص کا زہر کھا لینے کی مانند ہے۔

تقویٰ اور اخوت دو ایسے اصول ہیں جن کی پیروی میں امت مسلمہ کی نجات مضمر ہے۔ ہر متقی اتحاد پسند ہوگا کیونکہ تقویٰ اور اخوت دونوں حق کا لازمہ ہیں۔ اور افتراق کا تعلق باطل سے ہے۔ ان دونوں یعنی تقویٰ اور اخوت سے انحراف گمراہی، ذلت، رسوائی، خوں ریزی اور فرقہ بندی اور شکست سے دوچار کر سکتا ہے۔

صدر اسلام میں فکری و ذہنی اختلاف کے باوجود سب کا مرکزِ اطاعت اور محور ِعقیدت رسول اللہﷺ کی ذات ِاقدس تھی جس کی بنیاد پر مٹھی بھر مسلمان ہزار ہا دشمنان اسلام پر حاوی تھے۔ آج امّت کے مابین اتحاد و یک جہتی، اخوت و اجتماعیت کے قیام کے لیے اسی روح اور اسی جذبے کی ضرورت ہے۔

اقراء سے مزید