• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’اسرائیلی فوج اندر سے ٹوٹ رہی ہے‘‘ فوج کے سربراہ کی سنگین وارننگ

کراچی (رفیق مانگٹ) ’’اسرائیلی فوج اندر سے ٹوٹ رہی ہے‘‘، فوج سربراہ کی سنگین وارننگ، جنرل ایال زمیر نے سیکورٹی کابینہ کو بریفنگ دی کہ فوج اس وقت دس بڑے خطرات (ریڈ فلیگز) کا سامنا کر رہی ہے، نئی بستیوں کے قیام نے فوجی تعیناتیاں بڑھا دیں، بھرتی قانون میں تعطل سے بحران میں اضافہ، سیاسی نظام میں ہلچل، فوجی قیادت کے انتباہ سے حکومت کڑی تنقید کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔ اپوزیشن کا کہنا تھا حکومت فوجی تباہی کی وارننگ کو نظرانداز کر رہی ہے۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ جنرل ایال زمیر نے سیکیورٹی کابینہ کے اجلاس میں فوج کو درپیش بڑھتے ہوئے بحران پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ کے مطابق فوج اس وقت دس بڑے خطرات (ریڈ فلیگز) کا سامنا کر رہی ہے، جن میں سب سے اہم افرادی قوت کی شدید کمی، ریزرو فوجیوں پر ناقابل برداشت دباؤ، اور لازمی بھرتی قانون میں تعطل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ متعدد محاذوں پر بڑھتے آپریشنز، ڈیوٹی کی مدت میں مستقل اضافہ، اور نئی بستیوں کے قیام سے سیکورٹی بوجھ میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ نفری کی کمی نے مستقبل کی منصوبہ بندی اور آپریشنل تیاری کو متاثر کیا ہے، جبکہ تھکاوٹ اور غیر یقینی صورتحال کے باعث فوج کا مورال کمزور پڑ رہا ہے۔ سب سے بڑھ کر، سیاسی قیادت کی جانب سے بروقت فیصلے نہ ہونے کی وجہ سے فوجی ضروریات اور حکومتی پالیسی میں واضح خلیج پیدا ہو گئی ہے، جو فوج کے اندرونی استحکام کیلئے بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اسرائیلی فوج اپنے اندر ہی گر رہی ہے کیونکہ اس پر ذمہ داریاں اس کی موجودہ صلاحیت سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہیں۔ جنرل زمیر نے بتایا کہ فوج کو بیک وقت کئی محاذوں پر کام کرنا پڑ رہا ہے جس سے آپریشنل دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق نہ صرف میدانِ جنگ کی ذمہ داریاں زیادہ ہو چکی ہیں بلکہ اندرونی انتظامی مسائل بھی فوج کی کارکردگی پر اثر ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریزرو فوجیوں پر غیرمعمولی بوجھ پڑ گیا ہے اور انہیں طویل عرصے تک بار بار ڈیوٹی پر بلایا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے ان فوجیوں کی ذاتی زندگی، پیشہ ورانہ مصروفیات اور ذہنی حالت پر بھی منفی اثر ڈالا ہے۔ سربراہِ فوج نے واضح کیا کہ لازمی فوجی بھرتی قانون کی منظوری میں تاخیر نے افرادی قوت کے بحران کو اور بڑھا دیا ہے۔ بھرتی کے نظام میں سست روی کے باعث فوج کو مستقبل کی منصوبہ بندی میں مشکلات کا سامنا ہے اور افرادی قلت کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے نئی بستیوں کے قیام کا بھی ذکر کیا، جن کی وجہ سے فوجی تعیناتیوں کا دائرہ مزید وسیع ہو گیا ہے۔ مختلف علاقوں میں نگرانی اور سیکیورٹی بڑھنے سے فوج پر اضافی ذمہ داریاں عائد ہوئیں جو پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔

اہم خبریں سے مزید