غزہ میں جنگ بندی کے بعد حماس اور دیگر فلسطینی گروہوں کو غیر مسلح کرنے سے متعلق ایک نیا منصوبہ سامنے آیا ہے جسے بورڈ آف پیس کے ڈائریکٹر جنرل نکولائے ملادینوف نے تیار کیا ہے۔
’الجزیرہ‘ کی ایک خصوصی رپورٹ میں شائع کی گئی منصوبے کی تفصیلات کے مطابق غزہ کو غیر مسلح کرنے کا عمل 8 ماہ میں مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا اور یہ عمل اسرائیل کی جانب سے انسانی امداد، تعمیرِ نو اور فوجی انخلاء سے متعلق وعدوں کے ساتھ مشروط ہو گا۔
منصوبے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اور حماس فوری طور پر فوجی کارروائیاں بند کریں گے، غزہ میں انسانی امداد اور تعمیراتی سامان کی فراہمی بڑھائی جائے گی، غزہ کا انتظام ایک فلسطینی قومی کمیٹی کے حوالے کیا جائے گا اور غزہ کے غیر مسلح ہونے اور اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلاء ایک ساتھ مرحلہ وار آگے بڑھے گا۔
مکمل جنگ بندی نافذ ہو گی، انسانی امدادی اقدامات شروع کیے جائیں گے، فلسطینی قومی کمیٹی کے نمائندے غزہ میں داخل ہو کر انتظامی اور سیکیورٹی ذمے داریاں سنبھالیں گے۔
حماس اور دیگر گروہ بھاری ہتھیار ہٹانا شروع کریں گے، پہلے اسرائیلی کنٹرول والے علاقوں سے اور پھر دیگر علاقوں سے ہتھیار نکالے جائیں گے، 90 دن سے پہلے سرنگوں کا نیٹ ورک تباہ کرنا ہو گا اور اسرائیل عارضی رہائشی یونٹس کی تعمیر کی اجازت دے گا۔
نگرانی کمیٹی کی تصدیق کے بعد اسرائیلی فوج بتدریج غزہ کے کناروں تک واپس جائے گی، فلسطینی سیکیورٹی فورسز تمام ہتھیار جمع کریں گی جس کا ہدف 251 دن مقرر ہے۔
اس کے بعد مکمل تعمیرِ نو اور دہرے استعمال والے مواد جیسے کنکریٹ، اسٹیل اور ایندھن کی اجازت دی جائے گی۔
حماس پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ اسرائیلی قبضہ برقرار رہنے تک حماس کا ہتھیار ڈالنا ممکن نہیں۔
فلسطینی حلقوں میں اس منصوبے کو حماس کے ’سیاسی ہتھیار ڈالنے‘ کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور حماس دونوں نے تاحال منصوبے پر باضابطہ ردِعمل نہیں دیا ہے تاہم فلسطینی گروہوں کو اسرائیل کی جانب سے معاہدوں کی پابندی پر شدید شکوک ہیں۔
بورڈ آف پیس ایک ادارہ ہے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے بعد قائم کیا گیا اور اسے غزہ کے انتظامی معاملات کی نگرانی سونپی گئی۔
اگر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ منصوبہ نافذ ہو گیا تو یہ جنگ کے خاتمے اور غزہ میں حماس کی تقریباً 2 دہائیوں پر مشتمل حکمرانی کے اختتام کا سبب بن سکتا ہے۔