• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

غزہ کو غیر مسلح کرنے کا نیا منصوبہ سامنے آ گیا: 8 ماہ میں مرحلہ وار عمل کی تجویز

---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

غزہ میں جنگ بندی کے بعد حماس اور دیگر فلسطینی گروہوں کو غیر مسلح کرنے سے متعلق ایک نیا منصوبہ سامنے آیا ہے جسے بورڈ آف پیس کے ڈائریکٹر جنرل نکولائے ملادینوف نے تیار کیا ہے۔

’الجزیرہ‘ کی ایک خصوصی رپورٹ میں شائع کی گئی منصوبے کی تفصیلات کے مطابق غزہ کو غیر مسلح کرنے کا عمل 8 ماہ میں مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا اور یہ عمل اسرائیل کی جانب سے انسانی امداد، تعمیرِ نو اور فوجی انخلاء سے متعلق وعدوں کے ساتھ مشروط ہو گا۔

منصوبے کے اہم نکات

منصوبے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اور حماس فوری طور پر فوجی کارروائیاں بند کریں گے، غزہ میں انسانی امداد اور تعمیراتی سامان کی فراہمی بڑھائی جائے گی، غزہ کا انتظام ایک فلسطینی قومی کمیٹی کے حوالے کیا جائے گا اور غزہ کے غیر مسلح ہونے اور اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلاء ایک ساتھ مرحلہ وار آگے بڑھے گا۔

مرحلہ وار طریقہ کار

پہلا مرحلہ (پہلے 2 ہفتے):

مکمل جنگ بندی نافذ ہو گی، انسانی امدادی اقدامات شروع کیے جائیں گے، فلسطینی قومی کمیٹی کے نمائندے غزہ میں داخل ہو کر انتظامی اور سیکیورٹی ذمے داریاں سنبھالیں گے۔

دوسرا مرحلہ (دن 16 تا دن 60):

حماس اور دیگر گروہ بھاری ہتھیار ہٹانا شروع کریں گے، پہلے اسرائیلی کنٹرول والے علاقوں سے اور پھر دیگر علاقوں سے ہتھیار نکالے جائیں گے، 90 دن سے پہلے سرنگوں کا نیٹ ورک تباہ کرنا ہو گا اور اسرائیل عارضی رہائشی یونٹس کی تعمیر کی اجازت دے گا۔

اگلا مرحلہ:

نگرانی کمیٹی کی تصدیق کے بعد اسرائیلی فوج بتدریج غزہ کے کناروں تک واپس جائے گی، فلسطینی سیکیورٹی فورسز تمام ہتھیار جمع کریں گی جس کا ہدف  251 دن مقرر ہے۔

اس کے بعد مکمل تعمیرِ نو اور دہرے استعمال والے مواد جیسے کنکریٹ، اسٹیل اور ایندھن کی اجازت دی جائے گی۔

ردِعمل اور خدشات

حماس پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ اسرائیلی قبضہ برقرار رہنے تک حماس کا ہتھیار ڈالنا ممکن نہیں۔

فلسطینی حلقوں میں اس منصوبے کو حماس کے ’سیاسی ہتھیار ڈالنے‘ کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور حماس دونوں نے تاحال منصوبے پر باضابطہ ردِعمل نہیں دیا ہے تاہم فلسطینی گروہوں کو اسرائیل کی جانب سے معاہدوں کی پابندی پر شدید شکوک ہیں۔

پسِ منظر

بورڈ آف پیس ایک ادارہ ہے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے بعد قائم کیا گیا اور اسے غزہ کے انتظامی معاملات کی نگرانی سونپی گئی۔

اگر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ منصوبہ نافذ ہو گیا تو یہ جنگ کے خاتمے اور غزہ میں حماس کی تقریباً 2 دہائیوں پر مشتمل حکمرانی کے اختتام کا سبب بن سکتا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید