• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران امریکا مذاکرات جلد، میزبانی پاکستان کے لیے اعزاز، اسحٰق ڈار

اسلام آباد (رانا غلام قادر، ایجنسیاں) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے اعتماد کیساتھ پاکستان آنے والے دنوں میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان بامعنی مذاکرات کی سہولت کاری اور میزبانی کو اپنے لیے اعزاز سمجھے گا۔ چار ملکی وزرائےخارجہ اجلاس کے اختتام پر بیان دیتے ہوئے وزیر خارجہ اسحق ڈار نے کہا کہ سعودی عرب، ترکیہ، مصر ، چین اور اقوام متحدہ نے بھی امن کی بحالی کے اقدامات کیلئے پاکستان کی حمایت کی ہے، اسحق ڈار نے بتایا کہ وزرائے خارجہ اجلاس میں حالیہ صورتحال میں امت مسلمہ کے اتحاد کو انتہائی اہم قرار دیا گیا، جنگ کے جلد اور مستقل خاتمے کے ممکنہ طریقوں پر غور کیا گیا، بامقصد مذاکرات کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے پر زور دیا گیا، ذرائع کے مطابق اجلاس میں آبنائے ہرمز کیلئے انتظامی کنسورشیم بنانے کی تجویزپر غورہوا، علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ملاقات میں موجودہ بحران کے دوران سعودی عرب کی جانب سے اختیار کردہ غیر معمولی تحمل کی ستائش کی اور یقین دہانی کرائی کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، سعودی وزیر خارجہ نے خطے کی صورتحال پر سعودی عرب کے موقف سے وزیراعظم کو آگاہ کیا، دونوں ممالک کا خطے میں امن و استحکام کیلئے مشترکہ کوششیں اور قریبی رابطہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا، دوسری جانب پاکستان، سعودی عرب، ترکیے اور مصر کے وزرائے خارجہ کا اسلام آباد میں تاریخی اجلاس ہوا جس میں جنگ روکنے کیلئے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا، علاوہ ازیں ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیرخارجہ اسحق ڈار نے ملاقاتیں کیں، جس میں مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک و دیگر بھی موجود تھے، اسحق ڈار نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا انہوں نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، اسلام آباد مذاکرات اہم موڑ ہیں۔ تفصیلات کے مطابق اتوار کو پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے دوسرے مشاورتی اجلاس کے اختتام پر وزارت خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزراء خارجہ میری دعوت پر پاکستان میں موجود ہیں، تینوں وزرائے خارجہ کے ساتھ نہایت نتیجہ خیز دوطرفہ ملاقاتیں ہوئی ہیں، تینوں وزرائے خارجہ نے وزیراعظم محمد شہباز شریف سے بھی ملاقات کی۔انہوں نے کہا کہ تینوں وزرائے خارجہ کے اس دورے کا مقصد پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے درمیان مشاورتی عمل کے دوسرے اجلاس میں شرکت تھا، جو اسلام آباد میں منعقد ہوا ہمارا پہلا اجلاس 19 مارچ 2026 کو ریاض میں ہوا تھا۔اسحاق ڈار نے کہا کہ وزرائے خارجہ نے اجلاس میں موجودہ علاقائی صورتحال پر نہایت تفصیلی اور گہرائی سے تبادلہ خیال کیااور خطے میں جاری جنگ کے جلد اور مستقل خاتمے کے ممکنہ طریقوں پر بھی غور کیا۔وزرائے خارجہ نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ جاری تنازعہ وسیع تر خطے میں انسانی جانوں اور روزگار پر تباہ کن اثرات مرتب کر رہا ہےجو انتہائی افسوسناک ہے،ہم اس بات پر متفق ہوئے کہ یہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں اور اس کا نتیجہ صرف موت اور تباہی کی صورت میں نکلے گا ان مشکل حالات میں امت مسلمہ کا اتحاد نہایت اہم ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ انہوں نے مہمان وزرائے خارجہ کو اسلام آباد میں ممکنہ امریکہ-ایران مذاکرات کے امکانات سے آگاہ کیا اور مہمان وزرائے خارجہ نے اس اقدام کی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔وزرائے خارجہ نے صورتحال کو قابو میں رکھنے، کشیدگی کے خطرات کو کم کرنے اور متعلقہ فریقین کے درمیان بامعنی مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کے خاتمے اور علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے مکالمہ اور سفارتکاری ہی واحد قابل عمل راستہ ہیں اور اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں، بشمول تمام ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر عمل درآمد پر زور دیا ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کو خوشی ہے کہ ایران اور امریکہ دونوں نے مذاکرات کی سہولت کاری کے لیے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے،پاکستان آنے والے دنوں میں دونوں فریقین کے درمیان بامعنی مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری کو اپنے لیے اعزاز سمجھے گاتاکہ جاری تنازعے کا جامع اور دیرپا حل نکالا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ان کی چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ تفصیلی ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، چین نے ایران-امریکہ مذاکرات کی میزبانی کیلئے پاکستان کے اقدام کی مکمل حمایت کی ہے،اسی طرح اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ساتھ بھی ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، جنہوں نے پاکستان کے امن اقدام کی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔میں نے دنیا بھر کے مختلف ممالک میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ بھی متعدد ٹیلیفونک گفتگوکی جنہوں نے ہماری کوششوں پر مکمل اعتماد اور حمایت کا اظہار کیا ہے۔ قبل ازیں سعودی عرب کے وزیر خارجہ، عزت مآب شہزادہ فیصل بن فرحان نے اتوار کی شام وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔وزیر اعظم کے ہمراہ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک اور وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی بھی موجود تھے۔ ملاقات خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں ہوئی۔ وزیر اعظم نے سعودی وزیر خارجہ کا پرتپاک استقبال کیا اور خادم الحرمین الشریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے اپنے پرتپاک نیک تمناؤں کا اظہار کیا، جبکہ ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کیلئے بھی نیک خواہشات کا پیغام دیا۔ پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ مکمل اور غیر متزلزل یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کیا اور یقین دہانی کرائی کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔ انہوں نے سعودی وزیر خارجہ کو موجودہ بحران کے دوران پاکستان کی وسیع سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا، جن میں کشیدگی کم کرنے اور امریکہ و ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں شامل ہیں۔مسلم امہ میں سعودی عرب کے قائدانہ کردار پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے اس نازک وقت میں اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد کی ضرورت کو اجاگر کیا۔سعودی وزیر خارجہ نے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا اور انہیں خطے کی صورتحال پر سعودی عرب کے مؤقف سے آگاہ کیا۔ پاکستان اور سعودی عرب نے خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی مشترکہ کوششوں اور قریبی رابطے کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ علاو ہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف سے ترکیہ کے وزیرِ خارجہ ہکان فدان اور مصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی نے اتوار کو یہاں ملاقات کی۔ دونوں ممالک کے وزراء خارجہ کی وزیرِ اعظم ہاؤس آمد پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے امور خارجہ سید طارق فاطمی نے استقبال کیا۔وزیرِ اعظم نے اپنے دفتر میں مہمان وزرا خارجہ کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔ملاقات میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار اور مشیر برائے قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک بھی موجود تھے۔ علاوہ ازیں وزیر خارجہ اسحق ڈار نے ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور جاری پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا۔وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کشیدگی میں کمی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پائیدار امن کے لیے مکالمہ اور سفارتکاری ہی واحد مؤثر راستہ ہے، پاکستان خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے تمام حملے روکنے اور لڑائی ختم کرنے پر بھی زور دیا۔ اسحق ڈار نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کی بحالی کے لیے تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔ علاوہ ازیں وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے دفترِ خارجہ میں جمہوریہ ترکیہ کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے ملاقات کی۔​ دونوں رہنماؤں نے خطے کی حالیہ پیش رفت، بشمول ایران کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور امن و استحکام کے فروغ کیلئے مذاکرات اور مسلسل سفارتی رابطوں کی اہمیت پر زور دیا۔​ اسلام آباد میں وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نور خان ائیر بیس سے واپس روانہ ہو گئے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ترکیہ کے وزیر خارجہ حالان فیدان اورمصر کے وزیر خارجہ ڈالٹر بدر عبدالعاطی بھی اتوار کی رات اپنے اپنے وطن واپس روانہ ہوگئے۔

اہم خبریں سے مزید