کراچی (ٹی وی رپورٹ) سابق پاکستانی سفیر(امریکہ)، حسین حقانی نے کہا ہے کہ ٹرمپ ایک پیچیدہ صورتحال میں پھنس چکے ہیں، مسئلے کا سفارتی حل اتنا آسان نہیں جتنا بعض حلقے تصور کرتے ہیں۔ تجزیہ کار (تہران) ڈاکٹر راشد نقوی نے کہا کہ مذاکرات کے حوالے سے ایران کے تجربات نہایت تلخ رہے ہیں۔ وہ جیو نیوز کے پروگرام ”جرگہ“ میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کررہے تھے۔ تفصیلات کے مطابق پروگرام ”جرگہ“ کے آغاز میں میزبانسلیم صافی نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کو ایک ماہ ہوگیا اور یہ تنازع اب پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ اس تناظر میں اہم سوالات یہ ہیں کہ آیا یہ جنگ مزید طول اختیار کرے گی یا اس کے خاتمے کے امکانات پیدا ہو رہے ہیں، اور کیا ایران جنگ بندی یا مذاکرات کے لئے آمادہ ہے یا نہیں؟۔ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سابق پاکستانی سفیر(امریکہ) حسین حقانی نے کہا کہ اگرچہ بظاہر سفارتی سطح پر نیک نیتی سے کوششیں جاری ہیں، تاہم ایران یہ واضح کرنا چاہتا ہے کہ اسے دباؤ کے ذریعے جھکایا نہیں جا سکتا۔ امریکہ اور اسرائیل، ایران کو اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹانے کے خواہاں ہیں لیکن اس مسئلے کا سفارتی حل اتنا آسان نہیں جتنا بعض حلقے تصور کرتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت ایک پیچیدہ صورتحال میں پھنس چکے ہیں کیونکہ انہوں نے غیر حقیقی توقعات کے تحت اس جنگ کی منصوبہ بندی کی تھی۔ایران میں ریاستی سطح پر اتحاد نظر آ رہا ہے اور یہ تاثر درست نہیں کہ ملک اندرونی طور پر کمزور ہو رہا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے غالباً یہ اندازہ لگایا تھا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک پر حملوں سے گریز کرے گا، مگر موجودہ صورتحال نے بین الاقوامی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے، خصوصاً آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات کے باعث۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ صدر ٹرمپ مذاکرات کے خواہاں ہیں، لیکن ایران اور امریکہ کے درمیان شرائط میں اس قدر وسیع خلیج موجود ہے کہ اسے پاٹنا آسان نہیں ہوگا۔