کراچی(نصر اقبال، اسٹاف رپورٹر) پاکستان نےرواں سال جون میں بھارت میں ہونے والےایشین والی بال کنفیڈیشن مینز کپ میں دونوں ملکوں کے درمیان کشیدہ تعلقات اور قومی کھلاڑیوں کو میزبان ملک میں درپیش سیکیورٹی مسائل کی وجہ سے شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے،تاہم تصدیق کے بعد اپنی حکومت کی جانب سے اجازت نہ ملنے پر ایونٹ سے دستبردار ہونے پر پاکستان کو جرمانے کا سامنا نہیں ہو گا، پاکستان نے ایشین والی بال حکام سے ایونٹ کو بھارت سے دوسرے ملک منتقل کرنے کی درخواست بھی کی ہے، فیڈریشن کے صدر سہیل خاور میر نے جنگ سے بات چیت میں کہا کہ بھارت میں ہمارے کھلاڑیوں کا سیکیورٹی کا خطرہ ہے، ان حالات میں ہماری ٹیم کا بھارت میں کھیلنا بہت مشکل ہے، بھارت کے ساتھ موجودہ سیاسی اور سفارتی تعلقات کے مد نظر رکھتے ہوئےایونٹ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، حکومت پاکستان اور پی ایس بی کی جانب سے تاحال این او سی جاری نہیں کیا گیا ہے، پاکستان کو ایونٹ میں اپنی شرکت کی تصدیق پیر تک کرنا ہے، والی بال کپ احمد آباد بھارت میں رواں سال 20 سے 28 جون تک کھیلا جائے گا،پہلے اے وی سی مینز کپ میں میزبان بھارت، آسٹریلیا، بحرین، انڈونیشیا، قازقستان، کوریا، نیوزی لینڈ، عمان، پاکستان، قطر، چائنیز تائپے اور تھائی لینڈ نےکوالیفائی کیا،فاتح ٹیم اگلے سال ہو نے والی عالمی والی بال چیمپین شپ میں شرکت کی حقدار ہوگی۔فیڈریشن کے صدر کا کہنا ہے کہ ہم نے عالمی تنظیم، ایشین والی بال ، سینٹرل ایشین والی بال تنظیموں کے حکام کو تمام صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ٹور نامنٹ کسی دوسرے ملک میں منتقل کردیا جائے توہم ایونٹ میں حصہ لے سکتے ہیں۔