لاہور( این این آئی)پاکستانیوں کی بیرون ملک پڑی اربوں ڈالر کی دولت واپس لانے کیلئے روشن ڈیجیٹل اسکیم میں سرمایہ کاری کی اجازت دینے سمیت مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔ ذرائع کے مطابق مشرق وسطیٰ اور یورپ سمیت مختلف ملکوں میں پاکستانیوں کی 20ارب ڈالر دولت کا تخمینہ ہے، اس رقم کو واپس لانے کیلئے کسی بھی شہری کو روشن ڈیجیٹل اسکیم میں سرمایہ کاری کی اجازت دینے پر غور جاری ہے۔ ایف بی آر ذرائع کے مطابق اوورسیز پاکستانیوں سے رئیل اسٹیٹ سیکٹرمیں خریدی جائیداد کی قیمت کے 10فیصد پر ٹیکس وصولی کی تجویز ہے۔ حکام کے مطابق اس وقت اسکیم صرف اوورسیز پاکستانیوں کی سرمایہ کاری کیلئے ہے اب غیرملکی کمپنیوں اور پاکستان میں مقیم شہریوں کو بھی اس اسکیم میں سرمایہ کاری کی اجازت دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق موجودہ مالی سال کے 8ماہ میں نیا پاکستان سرٹیفکیٹ میں ایک ارب 76 کروڑ ڈالر سرمایہ کاری آئی۔ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں بیرونی دولت کی منتقلی میں سہولت دینے پر غور جاری ہے۔ 2018 اور 2019 میں ایمنسٹی میں ظاہرکردہ دولت پاکستان منتقل نہیں کی گئی۔ ذرائع ایف بی آر کے مطابق دونوں اسکیموں میں 82 ہزار 889 افراد نے گوشوارے جمع کرائے، حکومت کو 194 ارب روپے مجموعی ٹیکس حاصل ہوا تھا۔ اب رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں اوورسیز پاکستانیوں کو ٹیکس میں رعایت دینے کی بھی تجویز ہے ۔ اوورسیز پاکستانیوں سے رئیل اسٹیٹ سیکٹرمیں خریدی جائیداد کی قیمت کے 10 فیصد پر ٹیکس وصولی کی تجویز ہے۔