تحریر: شائستہ اظہر صدیقی، سیال کوٹ
ماڈل: عیشا خالد
ملبوسات: فائزہ امجد اسٹوڈیو، ڈی ایچ اے، لاہور
آرائش: دیوا بیوٹی سیلون
عکّاسی: عرفان نجمی
لےآؤٹ: نوید رشید
قدرت کے وسیع کینوس پر اُترنے والے رنگارنگ موسموں میں سے ایک ایسا بھی ہے، جودل کے خاموش جہانوں کے لیے گویاروشنی کا استعارہ ہے، ’’موسم ِبہار‘‘۔ زمین کی آغوش سے سر اُٹھاتا نرم مخملیں سبزہ ایک اچھوتی مسکان کے ساتھ جیسے اِک نئے باب کے آغاز کا پتا دیتا ہے۔ خوشبوؤں کے سفیر اُودے، زرد، سُرخ و سفید و گلابی پھول سانسوں میں تازگی سی گھولنے لگتے ہیں۔ فطرت کی سرد مہری (سردی) کےختم ہونے کی علامت کے طور پر گرد وپیش کا ہر منظر بدلا بدلا لگتا ہے بلکہ صرف مناظر ہی کیا، اُن کو تکنے، سراہنے والی آنکھوں کے انداز، دل کے زاویے تک بدلے محسوس ہوتے ہیں۔
چڑیوں کی چہچہاہٹ بھی رسیلےگیتوں کی مانند سماعتوں میں اُترتی ہے۔ بلبل کی آواز، نغمۂ سرور بن کر دل کو شاد کرتی ہے۔ دُورکہیں بہتے جھرنے کا سنگ ریزوں سے ٹکراتا پانی قدرت کے ازخود چِھڑے ساز کے مشابہ معلوم ہوتا ہے۔ بادِ صبا بھی شوخی پر آمادہ، معمول کی چلنے والی ہوا کا لبادہ اُتار، ایک شوخ پیام بر بن جاتی ہے۔ جو پیڑ برف رُت میں ٹنڈ منڈ سے ہو کے ویرانی کی تصویر بنےکھڑے تھے، مژدۂ بہار سُنتے ہی سبز قبائیں اوڑھ، ہوا کے سنگ یوں لہراتے اِتراتے نظر آتے ہیں، جیسے معصوم بچّے بروزِعید نئے کپڑے پہن، سج دھج کر اِٹھلاتے پِھرتے ہوں۔ گویا موسمِ بہار کائنات کی دھڑکن میں بجتا ایک سلوگن ہے کہ ’’زندگی پھرسے جینے کو آئی ہے۔‘‘
خزاں کی مُرجھائی، سرما کی ٹھٹھری زمین پر قدرت بہار کے ابتدائی دِنوں کی نرم دھوپ یوں اُتارتی ہے، جیسے مریض کے ماتھے پر کوئی طبیب نرمی سے اپنا ہاتھ رکھ دے۔ اِسی نرم وگرم لمس سے حدّت پا کرمٹی تلے دفن بیج، زمین سے باہر نکل، گویا موت کی قید سے آزاد ہو کے زندگی کی کونپلیں لہراتے ہیں۔ ہر شاخ شے پھوٹتا اِک اِک شگوفہ گویا اُمید کا ایک دیا سا معلوم ہوتا ہے۔
بقول پروین شاکر ؎ ’’ہوا چلی تو نئی بارشیں بھی ساتھ آئیں… زمیں کے چہرے پہ آیا نکھار کا موسم… وہ میرا نام لیے جائے اور مَیں اُس کا نام… لہو میں گونج رہا ہے پکار کا موسم… قدم رکھے مِری خوشبو کہ گھر کو لوٹ آئے… کوئی بتائے مجھے کوئے یار کا موسم… وہ روز آ کے مجھے اپنا پیار پہنائے… مِرا غرور ہے بیلےکے ہار کا موسم … تِرے طریقِ محبت پہ بارہا سوچا… یہ جبر تھا کہ تِرے اختیار کا موسم۔‘‘
ویسے موسموں کا ایک جہاں تو انسان کے اندر بھی آباد ہوتا ہے، جو بیک وقت متضاد کیفیات کا رازدار ٹھہرتا ہے، تو آئینہ داربھی۔ کبھی تو محض پرندوں کی بولیاں اُمید وخوشی کا ایک سِرا تھما دیں اور کبھی بے سبب ہی گہری، دبیز خاموشی مَن دریچے بھی مقفّل کرجائے۔ کبھی تو مُسکراتی ہوئی ننّھی کلیوں پر نگاہ پڑنے سے اِک اَن جانی خوشی کی روشنی چہار سُو بکھرتی محسوس ہو اور کبھی میپل کے نارنجی زرد پتّوں کی شاخ سے جدا ہونے کی مدھم سی سرسراہٹ ماضی کے کئی پنّےالٹ کرگہری نیند سوئی اداسی کو بھی جگا دے۔
یہ من آنگن کے معمول کے موسم ہیں، مگر زمین پر اُترنے والا موسمِ بہار ایسی البیلی طبیعت کاحامل ہے کہ نہ صرف فطرت بلکہ رویوں میں بھی بلا اجازت در اندازی کرتا چلا آتا ہے۔ یہ شاید چہروں پر بےساختہ مسکراہٹ لانے، باتوں میں مٹھاس گھولنے، دِلوں پر جمی برف پگھلانے اور خُود کو نئے سرے سے دریافت کرنے کا موقع دینے کے لیے اس قدرنٹ کھٹ انداز اپناتا ہے۔ بقول شہزاد احمد ؎ وہ آیا تو سارے موسم بدلے بدلے لگتے ہیں… یا کانٹوں کی سیج بچھی تھی یا پھولوں کا بچھونا ہے۔
اور… اِس سہانے موسم میں بھلا کس کا مَن سجنے سنورنے پر مائل نہ ہوگا۔ تو لیجیے، اس بار ہماری بزم بھی پھولوں جیسے پیراہن ہی سے مرصع ہے۔
ذرا دیکھیے، سی گرین کے شیڈ میں لانگ شرٹ کی نفیس کٹنگ، جسے گلے، آستینوں اور دامن کی منفرد ایمبرائیڈری مزید دل نشین بنارہی ہے، تو سفید شلوار نے گویا توازن مکمل کردیا ہے۔ یہ روزمرّہ استعمال یا کسی عام تقریب کے لیے ایک بہترین انتخاب ثابت ہوگا۔ آرگنزا کے پِیچ رنگ پہناوے کی قمیص پر ہلکے رنگوں کے دھاگوں سے باریک، نفیس کڑھت کی گئی ہے، تو ساتھ آرگنزا ہی کا دوپٹا پورے لباس کو انتہائی دل کش لک دے رہا ہے۔
زری اور دھاگے کی کڑھت سے مزیّن آف وائٹ تِھری پیس فارمل سوٹ کے دامن پر موتی کی لیس اور آستینوں پر کڑھت کے ساتھ ہلکی جھالرکی آراستگی نےاِسےایک جدید انداز دے دیا ہے، جب کہ دوپٹا ہلکے آرگنزا میٹریل کا ہے۔ چکن کاری کے ہلکے آسمانی رنگ ڈریس کی جاذبیت وندرت کے توکیا ہی کہنے، جب کہ سیاہ رنگ کے ٹوپیس پہناوے کی قمیص پر آتشی، زرد اور سبز رنگوں سے پھول بُوٹوں کی کڑھت ہے، تو گلے، دامن کے کنارے گہرے گلابی رنگ کی لیس کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔ یہ لباس کسی فیملی ڈنر، سال گرہ یا شام کی کسی دعوت کے لیے ایک بہترین انتخاب ہو سکتا ہے۔
جب موسم خُود مُسکرا رہا ہے، تو پھر آپ کیوں نہ مسکرائیں۔ تو چلیں، پھر ہنستے مُسکراتے ہمارے رنگ و انداز سے خُود کو جی بھرآراستہ و پیراستہ کریں اور کسی کو یوں گنگناتے سُنیں۔ ؎ افسردگی بھی حُسن ہے، تابندگی بھی حُسن… ہم کو خزاں نے تم کو سنوارا بہار نے۔