تحریر: شائستہ اظہر صدیقی، سیال کوٹ
ماڈل: سنیبل
ملبوسات: فائزہ امجد اسٹوڈیو، ڈی ایچ اے، لاہور
آرائش: دیوا بیوٹی سیلون
عکّاسی: عرفان نجمی
لے آؤٹ: نوید رشید
خُود کو اکثر زمین کی حدود، وسعتِ کائنات سے باہر ڈھونڈتا، تلاشتا انسان دراصل خُود بھی اَن گنت خوابوں، امنگوں اور لامتناہی وسعتوں کا ایک حسین مرکب ہے۔ اُس کے تخیّل کی پرواز اتنی بلند، آرزوئیں ایسی لامحدود ہیں کہ یہ دنیا کی چھوٹی چھوٹی بندشیں، زمینی رشتےداریاں اُسے اکثر ایک تنگ دائرے کی طرح محسوس ہوتی ہیں۔ یہ انسان اور اُس کے گردوپیش کے مابین ہمیشہ سے جاری ایک فطری کشمکش ہے۔
محدودیت کے باوجود لامحدود کو پانے کی جستجو میں رہنا، ذات کو رنگنے کے لیے روایتی فرسودہ طریقوں کے بجائے کچھ الگ اور تخلیقی انداز کی تلاش، کائنات کی حقیقتوں کو آسمانی قوسِ قزح کے رنگوں سے سجا دیکھنا، ثابت کرتا ہے کہ درپیش بقا کی جنگ کے ساتھ ساتھ اپنے وجود کو ایک آرٹ کی شکل دینے کی کوئی دبی دبی سی خواہش بھی کہیں اندر پنہاں ہے۔
بقول ندا فاضلی ؎ ’’دُھلی شام کا روپ… فاختاؤں کی طرح سوچ میں ڈوبے تالاب… اجنبی شہر کے آکاش… اندھیروں کی کتاب… پاٹھ شالا میں چہکتے ہوئے معصوم گلاب… گھر کے آنگن کی مہک… بہتے پانی کی کھنک… سات رنگوں کی دھنک… تم کو دیکھا تو نہیں ہے… لیکن… میری تنہائی میں… یہ رنگ برنگے منظر… جو بھی تصویر بناتے ہیں… وہ… تم جیسی ہے۔‘‘ِ
بقا…کالی اور سفید زندگی ہے(یعنی صرف جینا اور مرنا) آرٹ… قوسِ قزح ہے اور مزید وسعت کی خواہش ایسی ہے، جس میں زمین کی تمام وسعتیں بھی کم پڑجاتی ہیں اور نگاہیں اُفق سے آگے کائنات کے کنارے چُھونےکو بےتاب رہتی ہیں۔ قوسِ قزح کا ایک سِرا تو زمین پر، جب کہ اِس کی بلند محراب آسمان کی گہرائیوں میں کھو جاتی ہے، تو یونہی زمین کی ’’تنگی‘‘ میں جکڑے پاؤں کے باوجود انسان کی نظریں قوسِ قزح کی مانند اُفق سے پارکائنات کے کنارے چُھولینا چاہتی ہیں۔
بقا…دھوپ اور بارش کا سنگم (آلام و آسائش) رضا… قوسِ قزح ہے…یعنی وہ رنگین محراب، جو ٹوٹے ہوئے دل اور اس کی بلند پرواز رُوح کے درمیان توازن قائم کردے۔ وہ امجد اسلام امجد نے کہا ہے ناں ؎ ’’درد کی کہانی کو، عشق کے فسانے کو… داستان بننے میں دیر کچھ تو لگتی ہے… رنگ یوں تو ہوتے ہیں بادلوں کے اندر ہی… پر دھنک کے بننے میں دیر کچھ تو لگتی ہے… ان کی اور پھولوں کی ایک سی ردائیں ہیں… تتلیاں پکڑنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے…ہو چمن کے پھولوں کا یا کسی پری وَش کا…حُسن کے سنورنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے۔‘‘
قوسِ قزح بھی تبھی بنتی ہے، جب بارش کی بوندوں پر دھوپ پڑتی ہے۔ ویسے ہی تلخیاں اور دُکھ، ہمّت و حوصلے کی روشنی سے ٹکرا کر انسانی شخصیت پر تسکین و رضا کی قوسِ قزح چھڑکتے ہیں اور پھر یہ قوسِ قزحی اوڑھنی زیبِ تن کرنا ہی گویا تقدیر سے محبّت کا اعلان ہے۔
امجد صاحب ہی کے اشعار ہیں۔ ؎ ’’رنگ دھنک نے بکھرائے ہیں، موسم اچھا ہے… گئے زمانے یاد آئے ہیں، موسم اچھا ہے…آنکھیں، چہرے، خوشبو، وعدے، آنسو، یادیں، پھول… ایک اِک کر کے لوٹ آئے ہیں، موسم اچھا ہے… شامِ شفق کی سیر بہانے تم بھی آجاؤ… دوست پُرانے سب آئے ہیں موسم اچھا ہے۔‘‘
تو چلیں آئیں ذرا، ہم بھی اپنی آج کی اِس ست رنگی، دھنک رنگ آرائش و زیبائش پر ایک نظر ڈالے لیتے ہیں۔ گہرے جامنی رنگ میں ساٹن سلک جیسے چمک دار فیبرک کی قمیص کے گلے، آستینوں اور دامن پر حسین ریشمی کڑھت کا جلوہ ہے، جس میں گلابی، پیلے اور سبز رنگوں کا استعمال عُمدگی سے کیا گیا ہے، جب کہ دامن پر حسین کٹ ورک بھی نمایاں ہے۔ قمیص کے ساتھ ہم رنگ شیفون دوپٹے اور ڈھیلی ڈھالی شلوار کی آمیزش ہے، جو پہننے میں خاصی آرام دہ ہونے کے ساتھ دیکھنے میں بالکل روایتی سا لُک دے رہی ہے۔
را سلک فیبرک کی آسمانی رنگ قمیص پر سنہری اور آف وائٹ دھاگے سے تلے، موتی کا دل کش کام ہے، تو گلے، آستین، دامن پر لُوپس کی آرائش سے پہناوے کی خُوب صُورتی کو جیسے چار چاند ہی لگ گئے ہیں، ساتھ میچنگ ٹراؤزر اور سادہ وائٹ دوپٹے کا کنٹراسٹ بھی بہت ہی بھلا معلوم ہو رہا ہے۔
ڈارک رسٹ کلر کےکرینکل جارجٹ فیبرک میں، ایمبرائڈری اور لیس کی آراستگی لیے روایتی قمیص شلوار کے ساتھ شیفون کا چُنری اسٹائل ٹائی اینڈ ڈائی دوپٹا ہے، جو صحیع معنوں میں زمین پہ اُتری قوسِ قزح کا تاثردے رہا ہے۔
پستئی سبزرنگ میں ڈوریا فیبرک کی قمیص پر نفیس ایمبرائڈری اور جالی دار کٹ ورک کی جدّت و ندرت نے ایک سادہ سے لباس کو خاصا تقریباتی سا رنگ دے دیا ہے، تو سی گرین رنگ کی سادہ سی لانگ شرٹ پر کڑھت کی دلآویزی کے ساتھ کُھلے پائنچوں کے ٹراؤزر اور ملٹی کلر ڈیجیٹل پرنٹڈ دوپٹے کا انتخاب بھی کچھ کم حسین معلوم نہیں ہو رہا۔ گرمی نےتو آتے ہی اِک قیامت سی بپا کردی ہے، تو اب اِس شدت و حدّت کو حُسنِ اتنخاب سے زیر کرنا ہمارا اور آپ ہی کا کام ہے ناں۔