تحریر: شائستہ اظہر صدیقی، سیال کوٹ
ماڈل: ماہ نور
ملبوسات: فائزہ امجد اسٹوڈیو، ڈی ایچ اے، لاہور
آرائش: دیوا بیوٹی سیلون
عکّاسی: عرفان نجمی
لے آؤٹ: نوید رشید
؎ حُسن کے جانے کتنے چہرے…حُسن کے جانے کتنے نام۔ ناموں کا فلسفہ بھی نہایت عجیب اور دل چسپ ہے۔ کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے ہمارے نام پہلے سے طے شدہ کسی گہری معنویت کا حصّہ ہوں۔ سائنس کے مطابق مادہ کبھی فنا نہیں ہوتا، بس ایک صُورت سے دوسری صُورت میں بدلتا چلا جاتا ہے اور یہ عمل آغازِ کائنات سے جاری ہے۔
خُود کو اس تناظر میں دیکھنے سے احساس ہوتا ہے کہ ہمارا وجود بھی شاید اُن ہی عناصر کا مرکب ہو، جو کبھی ستاروں اور سیاروں کی ساخت کا حصّہ تھے۔ جسم میں دوڑتا خون، ہڈیوں کی بناوٹ، دل و جگر کی نازک بافتیں… سب نہ جانے کتنے زمانوں، کتنے جہانوں کے عناصر سمیٹے ہوئے ہیں۔
دماغ میں اربوں نیورونز کی باریک اور حیرت انگیز ترتیب کسی کہکشاں میں پھیلے ہوئے nebulae (دھول، ہائیڈروجن، ہیلیم اورآئنائزڈ گیسز کے وسیع انٹرسٹیلر بادل) کی مانند دکھائی دیتی ہے، اور جب ان نیورونز کے درمیان برقی سگنلز سفر کرتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے، جیسے دُور دراز ستاروں کے درمیان روشنی اپنے پیغامات لیے کائناتی وسعتوں میں محوِ سفر ہو۔
ہم نہ جانے کن کن خطّوں کی مٹی سے بنے، اور نامعلوم کتنے جہانوں کی روشنیاں اپنے اندر توانائی کی صُورت مقید کیے ہوئے ہیں۔ گویا ہم خُود stardust بھی ہیں اور خود ہی ایک زندہ nebula کی مانند اس متحرک اور شعوری کائنات کا حصہ بھی۔
تو یہ خیال کچھ بعید نہیں لگتا کہ جس جہان میں کبھی ہماری کوئی اور صُورت یا شناخت رہی ہو، وہاں ہماری خصوصیات کے مطابق جو نام ہمیں ملا ہو، قدرت نے اُسی مناسبت سے اِس دنیا میں بھی ہمارے لیے وہی نام منتخب کروا دیے ہوں، جو ہماری اصل سے ہم آہنگ ہیں۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ بزرگ بعض اوقات بچّوں کی ناقابلِ فہم تکالیف کاعلاج، تبدیلیٔ نام تجویز کرتے ہیں۔ بظاہر یہ بات قدرے عجیب محسوس ہوتی ہے، مگر کیا خُود یہ کائنات بھی ایک سربستہ راز، ایک معما نہیں؟ سو، یہاں کچھ غیرمعمولی دکھائی دے، تو تعجب کیا۔
بہرکیف، یہ تو طے ہے کہ انسان کا وجود اپنی ہرحالت میں خُوب صُورت ہے۔ چاہے وہ نظم میں ڈھلا ہو یا انتشار سے بکھرا۔ نکھرے تو اِک روشن ستارے کی طرح جگمگا اُٹھتا ہے، اور بکھرے تو قوسِ قزح کی مانند رنگوں میں ڈھل کر اپنی ایک نئی معنویت پیدا کر لیتا ہے۔ ہماری ساخت بھی کائنات ہی کی طرح ہے، ترتیب میں نُور، تو انتشار میں رنگ، سادگی میں حُسن، تو ادا میں دل کشی۔ بقول لطیف ساحل؎ اِک خواب سے جیسے سو تعبیریں نکلی ہوں… اِک چہرہ کتنے چہروں کی پہچان ہوا۔
چلیں بھئی، اب ہماری نزاکت و دل کشی، نفاست و دل آویزی سے سجی، منتشر و یک جا رنگوں بَھری بزم پر بھی اِک نظرِ کرم کرلیں۔ ذرا دیکھیے، گہرے پِیچ اور فیروزی رنگ کا کلر کنٹراسٹ کس قدرشوخ و شنگ معلوم ہو رہا ہے۔ قمیص کےگلے پر فیروزی کڑھت کے ساتھ تِھری ڈی پھول، موتی کے ٹسلز لگے ہیں، تو دامن کے نچلے حصّے پر چوڑی فیروزی لیس کا بارڈ اِسے ایک پرفیکٹ لُک دے رہا ہے، جب کہ ساتھ سادہ فیروزی رنگ شیفون کا دوپٹا بہترین توازن کی صُورت ہے، تو ٹیولپ شلوار کے پائینچوں پر فیروزی رنگ کی لیس پہناوے کو مزید اسٹائلش بنا رہی ہے۔
سی گرین، موسمِ بہار کا خاص رنگ ہے، جو ہر طرح کی رنگت پرجچتا بھی ہے۔ اِسی حسین رنگ کے پہناوے کی قمیص پر گلے کا سلور کام درمیانی حصّے تک چلا گیا ہے، تودامن، آستینوں پر بھی سبزاور فیروزی ریشم کے دھاگے سے نفیس کڑھت کا جلوہ ہے اور ساتھ کُھلے پائنچوں کا حسین پلازو زیبِ تن کیا گیا ہے۔
پھر روایتی پنجابی اسٹائل لائم گرین سوٹ اپنی رنگینی اور کڑھائی کے سبب خاصا پُرکشش لگ رہا ہے۔ قمیص کو گلابی، نارنجی اور فیروزی جیسے شوخ رنگوں کی پٹیوں سے آراستہ کیا گیا ہے، تو میچنگ ٹراؤزر پر سنہری لیس کےساتھ موتی ورک ہے۔
یہ پہناوا منہدی، مایوں جیسی تقریبات کے لیے ایک بہترین انتخاب ثابت ہوسکتا ہے۔ آج کل مسٹرڈ گولڈن رنگ شادی بیاہ کی تقریبات کے لیے ایک کلاسیک انتخاب مانا جارہا ہے۔ اس رنگ کے پہناوے کی قمیص پر بہت منفرد سی ڈیزائننگ ہے۔ گلا سلور ایمبرائڈرڈ ہے، تو دامن اور آستینوں پر جالی، کٹ ورک کا خُوب صُورت استعمال نمایاں ہے۔
پہناوے کی خاص بات اِس کی ٹیولپ شلوار ہے کہ یہ اسٹائل روایتی ہونے کے ساتھ خاصا جدید بھی لگتا ہے۔ اور آسمانی نیلے رنگ کے بٹر فلائی سلیوز سے مزیّن پہناوے کے تو کیا ہی کہنے۔
یہ آستینیں خاصی چوڑی اورلٹکتی ہوئی سی ہیں، جن پر پولکا ڈاٹس والی نیٹ استعمال کی گئی ہے،جب کہ قمیص کے سامنے والے حصّے میں سفید لیس کے پینلز اور دامن پر شیشے کا کام ہے، ساتھ سادہ سفید اسٹریٹ پینٹ کی ہم آہنگی ہے۔
ان دنوں موسمِ بہار جوبن پر ہے، تو ساتھ ہی بھانت بھانت کی تقریبات کا بھی خُوب ہی غلغلہ ہے۔ ایسے میں قوسِ قزح سے ست رنگے ملبوسات کی ضرورت بہت ہی شدت سے محسوس کی جاتی ہے۔
سو، ہماری اس بزم سے خُوب رَج کےاستفادہ کیجیے اور خُود بخود ہی مُسکراتی، گنگناتی رہیے ؎ حنا کے، قوسِ قزح کے، شجر کے کیا کیا رنگ… وہ آنکھ لائی ہے، زنجیر کرکےکیا کیا رنگ۔