تحریر: نرجس ملک
ماڈلز: مناہل، ہنیا، صبا
ملبوسات: فائزہ امجد اسٹوڈیو
آرائش: دیوا بیوٹی سیلون
عکّاسی و اہتمام: عرفان نجمی
لے آؤٹ: نوید رشید
’’بھاگ دوڑ، افراتفری، نفسا نفسی، آپا دھاپی‘‘ گویا دورِ حاضر کا لازمۂ حیات ہیں۔ خال ہی کوئی ذی نفس دکھائی پڑتا ہے، جو عُجلت و اضطراب کا شکار نہ ہو، جسے کسی کام کی کوئی جلدی نہ ہو۔ صبر و قناعت، تحمّل و برداشت، عفوودرگزر، سُکون و اطمینان جیسی بیش بہا نِعَم ایک ایک کرکے ہماری انفرادی ہی نہیں، اجتماعی زندگی سےبھی رخصت ہوئیں۔ یوں کہیے، مجموعی طور پر پورا سماج، معاشرہ ہی اِک بدنظمی و انتشار کا شکار ہے۔
ذرا سوچیے، ایسے میں اگر ہمارے اجتماعی تہواروں، قومی و ملّی ایام کا بہانہ بھی میسّر نہ ہو، تو انسانوں اور حیوانوں کی زندگیوں میں فرق ہی کیا رہ جائے گا۔ دن نکلا، بھوک نے ستایا، رزق کی تلاش میں نکلے، جیسے تیسے پیٹ پوجا کی (کہ جب مقصدِ حیات ہی بھوک مِٹانا ہو، تو پھر اچھے، بُرے، حرام، حلال کی تمیز بھی کِسے رہ جاتی ہے) اور ٹانگیں پسار سو رہے۔ جنگلی حیات اور نوعِ انسانی میں واضح فرق/ لکیر عقل وشعور، اخلاقیات و مقصدِ حیات کا ہونا، نہ ہونا ہی تو ہے۔
جانور فطری جبلّت (Instinct) محض بھوک پیاس جیسی بنیادی ضروریات کی تکمیل کے تحت زندگی گزارتے ہیں، جب کہ ’’اشرف المخلوقات‘‘ باقاعدہ تہذیب و تمدّن کی حامل ہے، خصوصاً اُمّتِ مسلمہ، مسلم اُمّہ تو احکاماتِ الٰہی اور اسوۂ رسولﷺ کے اتباع میں شعائرِ اسلامی کے تحت ایک انتہائی منظّم و مربوط نظامِ حیات کی پابند ہے کہ دینِ اسلام محض عبادات کا مجموعہ نہیں، ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔
جس میں مہد تا لحد (پالنے، گہوارے سے قبر تک) انفرادی سے اجتماعی زندگی تک کے انتہائی متوازن و منطقی اصول و ضوابط متعیّن و مقرر ہیں۔
’’عیدین‘‘ ہی کے ضمن میں دیکھ لیں۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ اہلِ مدینہ (واضح رہے، خالص اسلامی فکر کے ساتھ سماجی و اجتماعی زندگی کا آغاز ہجرتِ مدینہ کے بعد ہی ہوا) دو دن بطور تہوار منایا کرتے تھے، جن میں وہ کھیل تماشے کیا کرتے۔
رسول اللہﷺ نے اُن سے پوچھا۔ ’’یہ دو دن جو تم مناتے ہو، اِن کی حیثیت کیا ہے؟‘‘(یعنی ان تہواروں کا تاریخی پس منظر کیا ہے) انہوں نے عرض کیا۔ ’’ہم عہدِ جاہلیت میں یہ تہوار اِسی طرح منایا کرتے تھے۔‘‘ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔ ’’اللہ تعالیٰ نے اِن دونوں تہواروں کے بدلے تمہارے لیے اِن سے بہتر دو دن مقرر کردیئے ہیں۔ یومِ عیدالاضحیٰ اور یومِ عیدالفطر۔‘‘ (سنن ابی داؤد)
چوں کہ اُمّتِ مسلمہ اپنی ترکیب میں عقائد و نظریات کے اعتبار سے دیگر اقوامِ عالم سے منفرد و ممیّز ہے، تو ہمارے تہوار بھی یک سر جداگانہ ہیں۔ ’’عیدالفطر‘‘ ربِ کائنات کے اپنے مہینے، رحمتوں، برکتوں کے خزینے ماہِ صیام کا انعام و اکرام ہے، تو ’’عیدالاضحیٰ‘‘ کی نسبت ہمارے جدِّامجد سیّدنا ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ سے ہے۔
جو بظاہر پیغمبرانِ خدا کی اطاعت و فرماں برداری، ایثار و قربانی سے مشروط ہے، لیکن درحقیقت اس کا مقصدومفہوم، فلسفہ ورُوح اورحکمت و پیغام گویا آفاقی و لامتناہی ہے۔
بقول مفتی منیب الرحمٰن ’’رُوح کی لطافت، قلب کے تزکیے، بدن و لباس کی طہارت اور مجموعی شخصیت کی نفاست کے ساتھ انتہائی عجز و انکسار اور خشوع وخضوع سے تمام مسلمانوں کا اتحاد و اخوّت کے جذبے سے سرشار ہو کر اللہ ربّ العزت کی بارگاہ میں سجدۂ بندگی، نذرانۂ شکر بجا لانے کا نام ’’عید‘‘ ہے اور اگر روزِ عید اُمّتِ مسلمہ کو ایک ساتھ مِل بیٹھنا، آپس کی نفرتیں، مصیبتیں، کدورتیں ختم کرنا اور قلب ونظر میں ایک دوسرے کے لیے محبتیں، چاہتیں، ہم دردیاں سمونا نصیب ہوجائے، تو گویا یہ ’’معراجِ عید‘‘ ہے۔‘‘ جب کہ صائب جعفری کا ’’عیدالاضحیٰ‘‘ کے عنوان سے لکھا گیا کلام بھی عید کے اِسی حقیقی مطلب ومعنی کو اجاگر کرتا ہے۔
؎ ’’دینے پیغامِ محبت، شمس اُبھرا عید کا… ہو مبارک سب کو، دن اِک اور آیا عید کا… ایک دوجے کے گلے لگ جاؤ، نفرت چھوڑ کر… یوں منائو مل کے خوشیاں، ہے زمانہ عید کا… دل کہ پژمُردہ، غم و اندوہ کی صرصر سے تھا…کِھل اُٹھا دل مثلِ گُل، پایا جو مُژدہ عید کا… کسمپرسی میں بھی سر شُکرِ خدا میں جُھک گیا… آسماں پر جب ہلالِ نُور چمکا عید کا… مثلِ اہلِ بیتِ سرکارِ رسالتؐ حشر تک… فرض ہے ہر اِک مسلماں پر منانا عید کا… عید کیا ہے؟ حکمِ یزداں کی اطاعت کی بہار… دیکھو، عصیاں کرنہ دے پھر رنگ پھیکا عید کا… روزِ قرباں ذبح کرنا جانور سُنّت ہے پر… کیا نہیں، ایثار و قربانی تقاضا عید کا… ہے خلیلؑ اللہ کے صدق و صفا کی بازگشت… ہے جہاں میں چار سُو جو آج چرچا عید کا… فاخرہ پوشاک، اونچی پگڑیوں کے ساتھ ساتھ… معصیت سے دُور رہنا بھی ہے جلوہ عید کا… خواہشاتِ نفس پر پھیرو چُھری تو بات ہے… ورنہ رہ جائے گا دن، بن کر تماشا، عید کا… دیکھو رہ جائے نہ بھوکا آج ہم سایا کوئی… خلقِ خالق کی نگہ داری ہے مایا عید کا… العجل لبیک ہو وردِ زبانِ مومنیں… اے خدا اس طرح گزرے لمحہ لمحہ عید کا۔‘‘
اور حفیظ بنارسی کا ’’پیغامِ عید‘‘ بھی یہی ہے ؎ ’’نکہت و رنگ لیے، نور کا سیلاب لیے…عید آئی ہے، محبت کا نیا باب لیے… ذرّہ ذرّہ ہے، جمالِ در خوشیٔ آب لیے…عید آئی ہے، محبت کا نیا باب لیے…کتنے تسلیم لیے، کتنےہی آداب لیے…عید آئی ہے، محبت کا نیا باب لیے…عشرتِ رُوح و سکونِ دل بے تاب لیے…عید آئی ہے، محبّت کا نیا باب لیے… حُسن ہے پیرہنِ اطلس و کمخواب لیے…عید آئی ہے، محبّت کا نیا باب لیے…جذبۂ و شوقِ ہم آہنگیٔ احباب لیے…عید آئی ہے، محبّت کا نیا باب لیے۔‘‘
بہرکیف، چوں کہ اُمتِ مسلمہ کے سب سے بڑے تہوار ’’عید الاضحیٰ‘‘ عیدِ قرباں، عیدِ ایثار، بقرعید یا عرفِ عام میں ’’بڑی عید‘‘ کی آمد آمد ہے، تو نفسا نفسی، آپا دھاپی کے اس دورِ ابتلا میں اس موقعے، بہانے کو غنیمت جانتے ہوئے اس بار ذرا اپنے اندر کی ’’مَیں مَیں‘‘ پر بھی ایک تیز دھار چُھری چلانے کی ہمّت و جرٔات کر ڈالیے۔ انفرادیت کے بُت کو اجتماعیت کے رنگ سے رنگنے، ذات کے خول کو سماج کے تشکیل تک وسعت دینے کی سعی کر دیکھیں۔
اپنے ’’اسمارٹ فون‘‘ کی مصنوعی، ورچوئل دنیا سے نکل کر انسانوں، اپنوں، پیاروں کی کائنات میں قدم رنجہ فرمائیں تاکہ عید، صحیح معنوں میں عید ہو۔ ہماری اِس خاص الخاص ’’عیدالاضحیٰ بزم‘‘ کے تحفۂ خاص اور اِس مناجات دلی کے ساتھ کہ؎ ’’رُونما جس کی بدولت جلوۂ اُمید ہو..... دُور ظلمت ہو دِلوں سے اور گھر گھر عید ہو۔‘‘ آپ سب کو ’’عیدِ قرباں‘‘ بہت بہت مبارک ہو۔