• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کچھ قوسِ قزح سے رنگت لی، کچھ نور چرایا تاروں سے ...

تحریر: شائستہ اظہر صدیقی، سیال کوٹ

ماڈل: نور فاطمہ

ملبوسات : Garnet

میک اپ آرٹسٹ: جیکب

عکّاسی: عرفان نجمی

کوارڈی نیشن: عابد بیگ

لے آؤٹ: نوید رشید

انسان کے اندر تلخ حقیقت پسندی اور تصوراتی رومانیت کے درمیان ایک گہرا تصادم ازل سے موجود ہے۔ ایک طرف حد درجہ عملی نقطۂ نظر، زندگی کے عارضی مظاہر بےوقعت سمجھ کر مسترد کرتا ہے۔ جہاں پھولوں کا مرجھانا، چاندنی کی چند روزہ چمک اور شبنم کے قطروں کا مِٹ جانا اُن کے بے مایا ہونے کی دلیل ہے۔

اس کے برعکس، حسّاس رُوح ان عارضی لمحوں کی اندرونی قدر و قیمت کا پوری شدت سے دفاع کرتی ہے۔ ظاہر بین ذہن کے لیے تسلط میں نہ آ سکنے والی ہر چیز ایک دھوکا ہے، لیکن حُسنِ فطرت کے دل دادہ کے لیے کسی منظر کا عارضی ہونا اُس کے لُطف کو کم نہیں کرتا۔ پھر وہ قوسِ قزح کے رنگ ہوں یا ستاروں کی کہکشاں۔

اگر تخیّل اور خوابوں کی روشنی چھین لی جائے تو زندگی کا راستہ ایک کٹھن، ناقابلِ برداشت بوجھ کی مانند ہو کر رہ جائے گا۔ خشک منطق اور اندیشے خُود ساختہ ہی سہی، مگر معصومانہ خوش فہمیوں کو کچلنے کی کوشش میں لگ جائیں اور ناامیدی تانے بانے بن کر کل کی اُمیدوں کا گلا گھونٹنے کے درپے ہوجائے۔ سو، انسان کا اندرونی وجود خواہ کتنا ہی اُجڑا اور ویران ہو، یہ خوابوں کی دنیا، خوشبوؤں کے نگر اور یادوں کے جھلملاتے چراغ ہی تلخیوں میں آگے بڑھنے کا حوصلہ بنے رہتے ہیں۔

بقول ثمینہ گل ؎ ’’سفر آغاز کرتے ہیں… کسی اَن جان منزل کا… سفر کے راستے میں دُور تک… صحرا ہی صحرا ہے…جہاں سورج نئےدن کی… مسافت سے ذرا پہلے… وہ اپنی روشنی کا… ملگجاسارنگ پہنے… آسماں کے نیلگوں… پردوں سے لڑتا ہے… تو صحرا کا حسیں منظر…کسی پارس کے ٹکڑوں سے… فضا رنگین کرتا ہے… یکایک وہ حسیں منظر… اسی پارس کے ٹکڑوں کو…جلا کرلال کرتا ہے…کسی پیاسے کی شدت…اور شدت کی بھی شدت ہے… کہ جب دریا ابلنے کی کئی…ناکام کوشش میں ابلتا ہے…لبِ دریا کبھی سورج سوا نیزے پہ آ کے جھول جاتا ہے…تبھی پھر شام کا منظر… اندھیری رات میں جل کر…نظر کے طاقچے سےڈھونڈ لاتا ہے… وہ ہیرے جو ابد تک…روشنی دیں گے…جلا دیں گے اندھیروں کو…سفر کو راستہ دیں گے۔‘‘ سو، انسان کا اندرونی وجود خواہ کتنا ہی اُجڑا اور ویران ہو، تب یہ خوابوں کی دنیا، خوشبوؤں کے نگر اور یادوں کے جھلملاتے چراغ ہی تلخیوں میں آگے بڑھنے کا حوصلہ بنے رہتے ہیں۔

لہٰذا خوابوں اور عارضی خوشیوں کی نازک پناہ گاہ کی حفاظت انتہائی احتیاط اور نرمی سے کی جانے کی متقاضی ہے کہ مایوسی اور بے رحمی کی ایک چھوٹی سی آہ بھی ہمارے ’’حسین واہموں‘‘ کو بجھا سکتی ہے۔ یہ خُوب صُورت واہمے ہی تو مَن ہی مَن قوسِ قزح کے رنگ، تاروں کی روشنی، بجلی کی تڑپ، باغ کی کلیوں کا خالص پن، پھولوں کی مہک، بہار کا کیف، آب شاروں کا دھیما ترنم، ہوا کی مدہم سرسراہٹ اور گہری دھند کی چادر یک جا کر کے ایک بے مثال شاہ کار تشکیل دیتے ہیں۔

اور… مظاہرِ فطرت سے مستعار لیے رنگوں، روشنیوں سے یہ محفل ہمیشہ یوں ہی سجی سنوری رہے، آپ کی اور ہماری اِس خواہش کی تکمیل ہی کی ایک صُورت ہماری یہ آج کی تازہ بہ تازہ بزم بھی ہے۔ ذرا دیکھیے، گاجری مائل انگرکھا اسٹائل کی لمبی فراک کا گھیر کس قدر خُوب صُورت اور متوازن ہے، جس پر سُرمئی، سفید اور گہرے سُرخ رنگ کے دل کش پھولوں کا پرنٹ ہے، تو آستینیں سیدھی اور پوری ہیں، جب کہ وی شیپ گلے کے کناروں پر ہم رنگ لیس نمایاں ہے، ساتھ بڑے بڑے پھولوں کے پرنٹ سے آراستہ کھاڈی نیٹ کے دوپٹے کی ہم آہنگی بھی کیاہی غضب ڈھا رہی ہے۔

مسٹرڈ رنگ کے انگرکھا فراک پرگہرے سُرخ، نارنجی اور سفید رنگ کے چھوٹے، بڑے پھولوں کا پرنٹ ہے۔ فراک کا فلو اور گھیر کافی مناسب ہے، تو پوری انگرکھا پٹی پر مسٹرڈ رنگ کی کٹ ورک لیس کی دل آویزی کا بھی جواب نہیں۔ ساتھ میچنگ دوپٹا ہے، جس نے لباس کا حُسن دوآتشہ کردیا ہے۔ موسمِ گرما کی عین مناسبت سے، پِیچ رنگ کے آرام دہ پینل اسٹائل اے لائن کُرتے کی جدّت و نُدرت کے بھی کیا کہنے۔

ڈھیلے ڈھالے کُرتے پر آگے کی طرف خُوب صُورت پینلز ڈالے گئے ہیں، تو کپڑے کے بنے چھوٹے گول بٹن لمبی پٹّی کی صُورت نیچے تک جا رہے ہیں، جو پہناوے کو نسبتاً روایتی سا لُک دے رہے ہیں۔ پاؤڈر پنک رنگ کے ڈریس میں پلازو کا پرنٹ اوررنگ قمیص جیسا ہی ہے، جب کہ پوری لانگ شرٹ سلور رنگ مشین ایمبرائڈری اور جوائننگ لیس سے مزیّن ہو کے بھی موسم کی مناسبت سے خاصی بھلی لگ رہی ہے۔

واضح رہے، ملبوسات کی رینج میں یہ پیاز کا چھلکا رنگ انتہائی منفرد مگر اِن ٹرینڈ ہے۔ اِسی طرح گہرا کاسنی رنگ بھی گرچہ ہر ایک پر نہیں کِھلتا، مگر پہننے میں بہت کُول سا تاثر دیتا ہے۔ اِسی رنگ میں، پلین پلازو کے ساتھ، کڑھت سے مرصّع فراک اسٹائل لانگ شرٹ اور شیفون کے پرنٹڈ ہلکے چُن دار دوپٹے کا سلیکشن بھی لاجواب ہے کہ یہ رنگ دھیما ہونے کے باوجود عید ملن پارٹیز یا نیم رسمی تقریبات وغیرہ کے لیے ایک انتہائی پُروقار انتخاب ثابت ہوگا۔

اِس بلا کی گرمی میں بھی اِس یقین و اعتماد کے ساتھ ہمارے اس انتخابِ لاجواب میں سے کچھ بھی اُٹھا لیں کہ اپنا کر آئینے سے یہی سُنیں گی۔ ؎ کچھ قوسِ قزح سے رنگت لی، کچھ نور چُرایا تاروں سے… بجلی سے تڑپ کو مانگ لیا، کچھ کیف اُڑایا بہاروں سے۔

سنڈے میگزین سے مزید
جنگ فیشن سے مزید