• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رنگ ساڑی کا اور نکھرے گا ... پھول گیندے کا اِک لگاؤ تو

تحریر: شائستہ اظہر صدیقی، سیال کوٹ

ماڈل: انمول راجپوت

ساڑیاں : Dija's design

میک اپ آرٹسٹ: جیکب

عکّاسی: عرفان نجمی

کوارڈی نیشن: عابد بیگ

لے آؤٹ: نوید رشید

رومی کہتے ہیں۔ ’’ہر ایسی چیز زہر ہے، جو ضرورت سے زیادہ ہوجائے۔‘‘ یہ خیال کتنا گہرا ہے۔ بقدرِ ضرورت برستی بارش زمین کے لیے زندگی کا پیام ہے، لیکن حد سے بڑھ جائے تو جان کی دشمن۔ رحمت اور زحمت کے درمیان صرف ’’مقدار‘‘ کا فرق ہے۔ سورج کی ناگزیر حرارت و روشنی تیز ہو تو جھلسا دینے والی تپش میں بدل جاتی ہے۔ خُوب صُورتی ایک خاص حد سے تجاوز کرتے ہی اپنی صفت کھو دیتی ہے۔

ایسے ہی حد سے زیادہ بڑھی ’’ہیلنگ‘‘ بھی شخصیت کے لیے زہر کے مترادف ہے۔ آسانیوں کی تلاش اور اس کے لیے کوشش کرتے رہنا بہترین حکمتِ عملی اور انسانی نیچر کے عین مطابق ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اس راہ میں درپیش چیلنجز کو قبول کرنا ہی عقل مندی کا ثبوت ہے۔ مسئلہ تب ہوتا ہے، جب انسان اپنی تکالیف سے نجات کی خاطر اس حد تک پاگل ہوجائے کہ زندگی کے فطری درد بھی قبول کرنے سے انکار کردے۔ تب وہ دراصل اپنی سرشت سے دُور ہونے لگتا ہے۔ زندگی میں کچھ فکریں، چند پریشانیاں، ایک آدھ سوچ ہونی ہی چاہیے۔

مکمل پُرتعیش زندگی راہ سے بھٹکا دیتی ہے۔ درد، رُوح کا قطب نُما ہے۔ زندگی میں فکر، کسک یا کسی چُبھن کی عدم موجودگی جمود کا شکار کر دیتی ہے۔ ایسے میں رُوح کا درد ایک اشارہ ہے کہ کہیں کچھ ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔

ضرورت سے زیادہ ’’سیلف ہیلنگ‘‘ میں مگن ہو جانے کا عمل رفتہ رفتہ ایک ایسا نفسیاتی قلعہ بنا دیتا ہے، جس کے اندر صرف ’’مَیں‘‘ کا بُت ہی رہتا ہے۔

ہر دُکھ سے بچنے کے لیے اپنے گرد حصار باندھتے، درد کا راستہ روکتے، اُن تمام راستوں کو بھی بند کر دیتے ہیں، جہاں سے خوشی، ہم دردی اور زندگی کی حرارت اندر آتی ہے۔ ’’ہاں مَیں ٹھیک ہوں‘‘ سے ’’ہاں! بس مَیں ہی ٹھیک ہوں۔‘‘ کا سفر مضبوط بننے سے سنگ دل بننے پر مکمل ہوتا ہے۔ حد سے بڑھتی ہیلنگ دراصل ایک خُود فریبی ہے۔ ماضی کی کرچیاں کرید کرید کر زخموں کو اپنی پہچان بنا لینا تاکہ’’ہیلنگ‘‘ کا جواز ملتا رہے۔

مستقبل کی طرف قدم بڑھانے کے بجائے ماضی کے دُکھوں کا اسیر ہو کر ذات کے ارد گرد دیواریں کھڑی کرلینا قطعاً کوئی دانش مندی نہیں۔ ’’حدود‘‘ متعین کرنا اچھی بات ہے، لیکن حد سے متجاوز ہیلنگ میں یہ حدود دیواریں بن جاتی ہیں۔

رومی ہی کا قول ہے۔ ’’زخم وہ جگہ ہے، جہاں سے روشنی آپ میں داخل ہوتی ہے۔‘‘ سچ یہی ہے کہ زندگی کی خُوب صُورتی تھوڑے سے ادھورے پن، تھوڑی سی فکر اور تھوڑے سے درد کے ساتھ جینے ہی میں ہے۔ بقول انور شمیم ؎ ’’اُٹھو… سیلے کمرے سے باہر کو نکلو… وہاں ہے زمانہ تغیر پذیر… کہ ہم چاہِ تاریک میں… اپنی آنکھیں نہ کھودیں… اُٹھیں جب…توسب چیزیں بدلی ملیں… اور سارے تماشے ہمیں… اجنبی آنکھ سے گھورتے ہم سے پوچھیں… کہ تم کون ہو… کس عجائب کدے سے نکل آئے ہو… اور جب… اپنی جیبیں ٹٹولیں… تو سکّے ہمارے زر و سیم کے… قیمتیں کھو چُکے ہوں… ہمیں یہ خبرمل رہی ہو… کہ ہم عہدِ رفتہ کے صحرائے ہُو میں کہیں… اپنے موہوم ومبہم ہیولے کی بھی… جانے کب کی نفی کرچُکے۔‘‘

تو چلیں، آج ذرا ’’اسٹیریو ٹائپ‘‘سے بغاوت کرتے ہوئے وسعتِ قلب وذہن کے ساتھ ایک یک سرجداگانہ سی، رنگارنگ ساڑیوں سے سجی بزمِ آرائش و زیبائش سے لُطف اندوز ہوتے ہیں۔ دیکھیے، اسٹیل بلیو اور کالے رنگ کے امتزاج پر مبنی ساڑی کے پلّو اور نچلے حصّے پر سیاہ رنگ کے چمک دار ستاروں کا باریک ، نفیس کام ہے، تو ساتھ میچنگ بلاؤز اور روایتی جُھمکوں کا استعمال پورے بناؤ سنگھار کو جیسے چار چاند لگا رہا ہے۔ آرگنزا کی گہرے جامنی رنگ کی ساڑی کے پلوؤں پر بھی نہایت دل نشیں سا ستارہ ورک ہے، ساتھ ہم رنگ بلاؤز اور مناسب آرائش نے ماڈل کا حُسن جگمگا سا دیا ہے۔

نرم و ملائم ہلکے گلابی رنگ کی ساڑی پر اُفقی رُخ میں گوٹے اور ستاروں کی باریک لہریں ہیں، جواِسے خاصی ندرت دے رہی ہیں، پھربارڈرز پرعنّابی رنگ پائپنگ اور کڑھت نمایاں ہے، جو ہلکےگلابی کے ساتھ یقیناً ایک شان دار امتزاج ہے۔ یہ ساڑی دن کی تقریبات، جیسے سوشل گیدرنگز، برتھ ڈے پارٹیز یا دیگر ہلکی پُھلکی تقریبات کے لیے بہترین انتخاب ثابت ہوگی۔

ہلکے بادامی رنگ کی ساڑی کو گہرے سبز رنگ بلاؤز کے ساتھ پہنا گیا اور بلاشبہ یہ بھی رنگوں کا ایک کلاسیک امتزاج ہے۔ بلاؤز کی گہری رنگت اورساڑی کا ہلکا رنگ اِسے پروفیشنل تقریبات کے لیے بہت موزوں بنا رہا ہے۔ اور ٹھنڈے ہلکے سُرمئی رنگ کی ساڑی کے کناروں پر سنہرے رنگ کا باریک بارڈر اور ساتھ سفید موتیوں کا کام ہے، ہم رنگ بلاؤز سے آراستہ اس نرم شیفون کی حسین ساڑی کی فال کا جواب نہیں۔

اگرآپ بھی ایک سے پہناوے پہن پہن کر اوب، اُکتا چکی ہیں، تو یہ منفرد و مختلف سا انتخاب واہتمام آپ ہی کے لیے ہے۔ جو جی چاہے، منتخب کرلیں۔ صفیہ چوہدری کی غزل مجسّم سی ہوتی معلوم ہوگی۔؎ خواب آنکھوں میں تم سجاؤ تو…کاغذی کشتیاں بناؤ تو… دن کا سورج ہےکس گمان میں اب…لَو دیے کی ذرا بڑھاؤ تو…ایک تتلی بھٹک رہی ہے یہاں…رُخ سے آنچل ذرا ہٹاؤ تو… ارے صاحب سُنو ذرا ٹھہرو…میرا دل ساتھ لے کے جاؤ تو… رنگ ساڑی کا اور نکھرے گا…پھول گیندے کا اِک لگاؤ تو۔

سنڈے میگزین سے مزید
جنگ فیشن سے مزید