یورپی ملک فن لینڈ میں ایک کار سوار پر حد رفتار سے 19 میل فی گھنٹہ زیادہ تیز چلانے پر 140,000 ڈالر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
اس حوالے سے بتایا جاتا ہے فن لینڈ کی وکلوف ہولڈنگ اے بی کمپنی کے 79 سالہ بانی اندریس وکلوف جنکی کمپنی سالانہ 350 ملین یورو سے زیادہ کماتی ہے، اسی وجہ سے ان کا اس شمالی یورپی ملک کے امیر ترین افراد میں شمار ہوتا ہے۔ تاہم وہ کچھ لاپرواہ ڈرائیور بھی ہیں، جو بعض اوقات انہیں بھاری جرمانے ادا کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
گزشتہ ہفتے وکلوف کو اپنی اسپورٹس کار 59 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلاتے ہوئے پکڑا گیا، جہاں رفتار کی حد 30 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ فن لینڈ میں رفتار کی حد سے 20 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ تجاوز کرنا سنگین جرم سمجھا جاتا ہے اور اس کے مطابق سزا دی جاتی ہے۔ مزید یہ کہ وہاں جرمانے مجرم کی آمدنی کے مطابق طے کیے جاتے ہیں۔
مسٹر وکلوف کے معاملے میں یہ جرمانہ 120,000 یورو یا 138,600 ڈالر مقرر کیا گیا۔ گو کہ وہ اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کر سکتے تھے، لیکن انہوں نے خود کو خوش قسمت سمجھا کہ ان کا لائسنس برقرار رہا، کیونکہ رفتار کی حد سے 30 کلومیٹر فی گھنٹہ زیادہ چلانے والوں کا لائسنس معطل کر دیا جاتا ہے۔
مسٹر وکلوف نے فنش میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر مجھ سے غلطی ہوئی ہے تو میں اسے قبول کرتا ہوں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ انکی پہلی مہنگی غلطی نہیں ہے۔ 2023 میں بھی وہ اسی طرح کے جرمانے کی وجہ سے خبروں میں آئے تھے۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ گزشتہ 13 سالوں میں وہ تقریباً 460,000 ڈالر کے مساوی صرف تیز رفتاری کے جرمانوں پر خرچ کر چکے ہیں۔
تاہم وہ اس حوالے سے خوش قسمت ہیں۔ کیونکہ 2010 میں ایک سوئیڈش ڈرائیور کو سوئٹزرلینڈ میں 120 کی مقررہ حد کے بجائے 290 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑی چلانے پر تقریباً ایک ملین ڈالر جرمانہ کیا گیا تھا۔ یہ جرمانہ بھی اس کی آمدنی اور کل اثاثوں کی بنیاد پر طے کیا گیا تھا۔