کراچی ( محمد منصف ) سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عدنان الکریم میمن نے حکم امتناع کے باوجود کراچی کاٹن ایکسچینج کی عمارت اور اراکین کے خلاف منی لانڈرنگ کے تحت کارروائی جاری رکھنے پر ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے کہ جب معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور حکم امتناع جاری ہو چکا ہے تو پھر کیوں کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے اور اس حوالے سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو بھی آئندہ سماعت کے لئے نوٹس جاری کر دیئے ہیں، جسٹس عدنان الکریم میمن نے اپنے حکم نامے میں ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو کہا ہے کہ عدالت میں ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر وضاحت دیں۔ کراچی کاٹن ایکسچینج کے اراکین شارق بشیر ، عارف پراچہ ، امین ہاشوانی سمیت دیگر کی جانب سے مجموعی طور پر تین آئینی درخواستیں دائر کی گئیں ہیں جن میں ایف آئی اے سمیت دیگر کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایف آئی اے نے تمام بینکوں کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے تمام درخواست گزاروں کے مالیاتی کھاتوں کی تفصیلات طلب کیں اور بتایا گیا کہ کرچی کاٹن ایکسچینج اور ان کے اراکین کے خلاف منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ واضح رہے کہ دسمبر 2025کو متروکہ املاک ٹرسٹ بورڈ اور ایف آئی اے نے مل کر کراچی کاٹن ایکسچینج کی عمارت کو سیل کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ مذکورہ عمارت وفاق کی ملکیت ہے اور ایف آئی نے ایف آئی آر درج کر لی تھی جس پر عدالت عالیہ نے ایف آئی اے کو تادیبی کارروائی سے روک دیا تھا۔