کراچی (ثاقب صغیر )سانحہ بلدیہ فیکٹری، مزمان کے بری ہونے پر پولیس کی تحقیقات پر سوالات۔تاخیر سے نمونے لینا، لیب رپورٹ اور تفتیشی بیانیے میں تضاد بھی ملزمان کو فائدہ پہنچاتا ہے۔تفتیشی نظام میں کمزوریوں کے باعث بڑے سانحات و واقعات میں ملزمان بری ہو جاتے ہیں۔کیس کا رخ جلدی میں کسی مخصوص “بیانیے” کی طرف موڑ دیا جاتا ہے نتیجتاً اصل تحقیق کمزور پڑ جاتی ہے۔بڑے کیسز میں اکثر الزام یہ لگتا ہے کہ تفتیش سیاسی یا ادارہ جاتی دباؤ سے متاثر ہوتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق بلدیہ فیکٹری سانحہ میں مزمان کے بری ہونے پر پولیس کی تحقیقات پر سوالات اٹھا دیئے جس کے بعد اب موضوع گفتگو یہ ہے کہ سانحہ کا ذمہ دار اب کون ہوگا، کیا نئےسرے سے تحقیقات ہوگی یا کیس ختم ہو جائے گا۔ پولیس کے تفتیشی نظام میں کمزوریوں کے باعث بڑے سانحات و واقعات میں پکڑے گئے ملزمان عدالتوں سے بری ہو جاتے ہیں۔پولیس اور استغاثہ عدالت کے معیار ثبوت تک کیس کو مضبوط نہیں بنا پاتے۔فوجداری نظام میں صرف الزام کافی نہیں ہوتا۔ عدالت میں جرم ثابت کرنے کے لیے قابل قبول ثبوت،آزاد گواہی، فرانزک اور تکنیکی شواہدضروری ہوتے ہیں۔زیادہ تر بڑے کیسز میں ناکامی کی عام وجوہات میں کمزور یا ناقص گواہیاں اور گواہ کا عدالت میں منحرف ہونا شامل ہے۔اعترافی بیانات پر حد سے زیادہ انحصار پولیس یا غیر عدالتی اعتراف اکثر ناقابل قبول ہوتا ہے۔عدالتیں صرف مجسٹریٹ کے سامنے دیا گیا رضاکارانہ اعتراف تسلیم کرتی ہیں۔اگر اس کی تائید دیگر شواہد سے نہ ہو تو کیس کمزور ہو جاتا ہے۔ جائے وقوعہ سے شواہد درست طریقے سے محفوظ نہ کرنا، تاخیر سے نمونے لینا، لیب رپورٹ اور تفتیشی بیانیے میں تضاد بھی ملزمان کو فائدہ پہنچاتا ہے۔بڑے کیسز میں اکثر الزام یہ لگتا ہے کہ تفتیش سیاسی یا ادارہ جاتی دباؤ سے متاثر ہوتی ہے۔کیس کا رخ جلدی میں کسی مخصوص “بیانیے” کی طرف موڑ دیا جاتا ہےنتیجتاً اصل تحقیق کمزور پڑ جاتی ہے۔اکثر کیسز میں پولیس کیس بناتی ہے مگر پراسیکیوشن الگ سے عدالت میں مضبوطی سے پیش نہیں کر پاتی۔اکثر سیاسی یا میڈیا کے دباؤ کے باعث ابتدائی رپورٹ جلدی میں بنائی جاتی ہے،بعد میں اسی کمزور بنیاد پر پورا مقدمہ کھڑا ہو جاتا ہے۔اہم گواہ عدالت تک نہیں پہنچ پاتے یا خوف کے باعث منحرف ہو جاتے ہیں۔بعض کیسز میں گواہوں کی عدم حفاظت پورے مقدمے کو متاثر کرتی ہے۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ بلدیہ کے دو ملزمان رحمان بھولا اور زبیر چریا کو بری کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔دونوں کو ٹرائل کورٹ نے سزائے موت سنائی تھی جسے ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا۔بلدیہ فیکٹری جیسے سانحات میں کئی چیلنج ہوتے ہیں ۔واقعہ اور ٹرائل کے درمیان کئی سال گزر جانے سے شواہد ضائع ہو جاتے ہیں، گواہ یادداشت یا دباؤ کی وجہ سے کمزور ہو جاتے ہیں۔کیس صرف فوجداری نہیں رہتا ،اس میں سیاسی، معاشی اور ادارہ جاتی مفادات شامل ہو جاتے ہیں۔نتیجتاً تفتیشی تسلسل متاثر ہوتا ہے۔اگر ابتدا میں کیس کو حادثہ کہا جائے اور بعد میں دہشت گردی ثابت کرنے کی کوشش ہو تو عدالت میں پورا مقدمہ مشکوک ہو جاتا ہے کیونکہ دفاع کو یہ نکتہ مل جاتا ہے کہ تحقیقات ہی غیر یقینی اور بدلتی رہی ہیں۔پاکستان کے فوجداری نظام میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ پولیس اکثر “کیس بنانے” میں تیزی دکھاتی ہے لیکن “کیس ثابت کرنے” کے لیے درکار قانونی، سائنسی اور عدالتی معیار تک نہیں پہنچ پاتی۔اسی لیے بڑے کیسز میں عدالتیں اکثر کہتی ہیں کہ ثبوت ناکافی ہیں، شکوک موجود ہیں یا تفتیش میں سنگین خامیاں ہیں اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کئی کیسز میں یا تو سزائیں کمزور پڑ جاتی ہیں یا بعض ملزمان بری ہو جاتے ہیں۔