ڈاکٹر نعمان نعیم
اسلامی تعلیمات کے مطابق بہترین خارجہ پالیسی امن، انصاف، ایفائے عہد (معاہدوں کی پاسداری) اور اخلاقی اصولوں پر مبنی ہے، جس کا مقصد فتنہ و فساد کا خاتمہ اور عالمی انسانی برادری کا قیام ہے۔ نبی کریم ﷺ کی حیات مبارکہ (مثلاً صلح حدیبیہ) اور خطوطِ نبوی ﷺ اس کے روشن نمونے ہیں، جو آزاد، غیر جانبدارانہ تعلقات اور مسلم ممالک کے ساتھ اشتراک پر زور دیتے ہیں۔
اسلام، جو ایک الٰہی اور دائمی نظام ہے، ایک بہترین خارجہ پالیسی کا حامل دین ہے۔ اس کے اصول نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی حیاتِ مبارکہ، طرزِ عمل اور اس زمانے میں دیگر حکومتوں سے تعلقات کی بنیاد پر استوار کیے گئے ہیں۔
وہ ملک جو اسلامی نظریے کو لے کر اٹھے اس کی خارجہ پالیسی کے کیا اصول ہوں؟ ملّت اور ریاست کے تعلقات دوسرے ممالک اور اقوام سے کن بنیادوں پر استوار ہوں؟
اس سلسلے میں سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ ملّت اسلامیہ اور اسلامی ریاست کی حیثیت اللہ کی علمبردار اور اس کے پیغام کے داعی کی ہے۔ قرآن پاک اس کو ’’امّتِ وسط‘‘ کہتا ہے اور اس کے منصب کو ’’شہادت حق‘‘ سے تعبیر کرتا ہے۔
یعنی یہ وہ امّت ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پوری انسانیت پر گواہ بنائی گئی ہے، جو اپنے قول و عمل، پالیسی اور پروگرام کے ذریعے خدا کے دین کی شہادت دیتی ہے۔ اس لیے اسلامی ریاست میں خارجہ پالیسی کا پہلا اصول یہ قرار پاتا ہے کہ یہ دین اسلام کی تبلیغ اور حق کی شہادت دینے والی ہو۔ اس پالیسی میں کوئی ایسا رویّہ اختیار نہ کیا جائے جو اس حیثیت کو مجروح کرنے والا ہو۔
ملک سے محبت اور اس کے مفاد کا تحفظ اس کی دوسری بنیاد ہے۔ محبت سے مراد یہ ہے کہ ملک اور اس میں بسنے والوں کی حقیقی خیرخواہی، ان کے مفادات کا تحفظ اور ان کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنا اس پالیسی کے اولین فرائض میں سے ہے۔
وطن سے سچی محبت ایک فطری عمل ہے، لیکن یہاں اسلام کے نقطہ نظر میں جو فرق ہے وہ یہ ہے کہ اسلام میرا ملک! حق یا ناحق کے اصول کو صحیح نہیں سمجھتا، بلکہ وہ حق کی صورت میں ہر ممکن تعاون و جدوجہد اور ناحق کی صورت میں مخالفت اور درست کرنے کی کوشش کو فرض کرتا ہے۔
نبی کریم ﷺنے فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول ﷲﷺ! اگر وہ مظلوم ہو تب تو میں اس کی مدد کروں، جب وہ ظالم ہو تو میں اس کی مدد کیسے کروں؟ آپﷺ نے فرمایا: اسے ظلم سے باز رکھو، یا فرمایا : اُسے (اس ظلم سے) روکو، کیونکہ یہ بھی اس کی مدد ہے۔(صحیح بخاری) یہی اصول اسلام خارجہ پالیسی کے لیے بھی تجویز کرتا ہے۔
اسلامی ریاست کی خارجہ پالیسی کا اہم پہلو پوری امّتِ مسلمہ کی وحدت کا داعی ہوناہے، پالیسی کی تیاری میں ایسی تدابیر اختیار کی جائیں، جو مسلمانوں کو جوڑنے، باہمی تعاون، بھائی چارہ قائم کرنے والی ہوں، اِس خارجہ پالیسی کا بڑامقصد پوری دنیا میں امن و امان کا قیام ہونا چاہیے۔
ارشادِ ربّانی ہے:بےشک، یہ ہے تمہاری امّت جو ایک ہی امّت ہے اور میں ہی تمہارا رب ہوں، سو میری عبادت کرو۔(سورۃالأنبياء: 92) سورۂ آل عمران میں فرمایا گیا:اور سب مل کر اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور جدا جدا نہ ہوجاؤ۔اسلام فتنہ و فساد کو ختم کرنے اور امن و امان قائم کرنے کے لیے آیا ہے۔ اس لیے اسلامی ریاست کی خارجہ پالیسی کا مقصد پورے عالم میں امن و امان قائم رکھنا ہے۔
اسلام نے ایسے اسباب کو بھی دور کرنے کی کوشش کی ہے جو امن کے لیے خطرہ ہوں۔ کیوں کہ امن اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتا ، جب طاغوت کی قوت کو ختم نا کیا جائے اور زمین سے فتنے کو بالکل مٹا نا دیا جائے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:اور ان سے لڑو، یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے اور دین اللہ کے لیے ہوجائے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو ظالموں کے سوا کسی پر کوئی زیادتی نہیں۔(سورۃ البقرہ)
دین اسلام جغرافیائی حدود میں انسانیت کو مستقل طور پر بانٹنے والی حدود نہیں مانتا۔ وہ ایک عالمی انسانی برادری قائم کرنا چاہتا ہے جو ایک قانون کے تابع اور ایک مرکز سے وابستہ ہو۔ جس میں انسانوں کو گروہوں میں تقسیم کرنے والی چیز نسل، رنگ، زبان اور وطنی حدود نہ ہو، بلکہ پوری انسانیت ایک خاندان بن جائے۔
اگر کسی بنیاد پر ان میں فرق ہو تو وہ ایمان اور تقوی ہو۔عہد و پیمان کی پابندی بھی اسلامی ریاست کی بین الاقوامی پالیسی کا ایک اصول ہے۔ دین اسلام اس پر سختی سے عمل کرنے کا حکم دیتا ہے۔ارشاد ربّانی ہے:اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! عہد پورے کرو۔(سورۃ المائدہ)
بین الاقوامی تعلقات میں اسلام بدلہ لینے کو جائز قرار دیتا ہے، لیکن یہ لازم کر دیتا ہے کہ بدلہ اتنا ہی لیا جائے جتنا حق ہے اور ذرا بھی زیادتی نہ کی جائے۔ اگر درگزر اور حسنِ سلوک کا طریقہ اختیار کیا جائے تو یہ خوب تر ہے۔ سورۃ النحل میں فرمایا گیا:’’اور اگر تم بدلہ لو تو اتنا ہی بدلہ لو جتنی تمہیں تکلیف دی گئی ہے اور بلاشبہ اگر تم صبر کرو تو یقینا وہ صبر کرنے والوں کے لیے بہتر ہے‘‘۔
اس آیت کی روشنی میں سیاست خارجہ کا ایک اصول یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اسلامی حکومت کو دوسرے ممالک سے بدلہ لینے کی اجازت ہے لیکن حسن سلوک کی پالیسی قابل ترجیح ہے۔ رہی یہ بات کہ کس موقع پر کون سا رویّہ اختیار کیا جائے تو اس کا فیصلہ حالات و واقعات اور حقائق پر مبنی ہے۔
مندرجہ بالا اصول اسلامی ریاست کی خارجہ پالیسی کو واضح کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا اپنا ایک سیاسی نظام ہے۔ وہ ایک مخصوص مزاج کی ریاست قائم کرتا ہے، جو دور حاضر کی دیگر ریاستوں سے مختلف اور ان سے بہت اعلیٰ اور بہتر ہے۔
قرآنِ کریم سیاسی معاملات میں اجمالی انداز میں رہنمائی فراہم کرتا ہے، جن کی بنیاد پر اسلامی خارجہ پالیسی کے اصول اخذ کیے جاتے ہیں۔ قرآنِ کریم کی تعلیمات کے مطابق اسلامی خارجہ پالیسی کے اصول اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ دین اور سیاست ایک دوسرے سے جُڑے ہوئے ہیں۔
یہ تصور کہ دین اور سیاست الگ الگ چیزیں ہیں، اسلام میں ایسے نظریے کی کوئی حیثیت نہیں، کیونکہ اسلام خود ایک مکمل نظامِ سیاست ہے، جو دیگر مذاہب کی طرح دین اور ریاست کو ایک دوسرے سے جدا نہیں سمجھتا۔
اسلامی سیاست، خصوصاً خارجہ پالیسی، صرف نبی کریم ﷺ، صحابۂ کرامؓ اور خلفائے راشدین ؓکے زمانے تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہر دور کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ اسلامی ممالک کے لیے اس میں تعامل کے اصول اور حل موجود ہیں۔ چونکہ اسلام ہر زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے، اس لیے دنیا کے بدلتے سیاسی حالات کے مقابلے میں اسلام کا نقطۂ نظر اور لائحہ عمل واضح اور مکمل ہے۔
اسلام کی خارجہ پالیسی کے اصول وہ رہنما ہدایات ہیں جو اسلامی ریاست کی عمومی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہیں اور جو بیرونی تعلقات کو دینی مآخذ کی روشنی میں منظم کرنے کے لیے ایک واضح لائحۂ عمل فراہم کرتے ہیں۔ ان اصولوں میں دعوت یا جہاد کا تصور، ظلم اور زیادتی کا خاتمہ، نفی سبیل (اسلام پر تسلط یا غلبے کی ہر کوشش کی نفی)، اسلامی عزت و وقار کا تحفظ، دینی سیاست اور بین الاقوامی معاہدوں کے ساتھ وفاداری اور التزام شامل ہیں۔ تالیفِ قلوب اور امر بالمعروف کو بھی اسلامی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں میں شمار کیا گیاہے۔
تالیفِ قلوب یا دلوں کو قریب لانے کے ضمن میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ موجودہ دور میں اسلامی خارجہ پالیسی کو اقتصادی ذرائع اور انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ یعنی اسلامی ریاستیں غیر مسلم اقوام کے دل جیتنے اور دشمنی کی شدت کم کرنے کے لیے ان وسائل سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔
اس کی بہترین مثال رسول اللہ ﷺ کا وہ عمل ہے جب غزوۂ حنین کے بعد آپ ﷺ نے نو مسلم اشرافیہ اور ان مشرک قبائلی سرداروں کو، جنہوں نے اسلام کی حمایت کی تھی، مالِ غنیمت میں سے ’’مؤلفۃ القلوب‘‘ کے حصے دیے، تاکہ ان کے دل اسلام کی طرف مائل ہوں۔
اسلامی خارجہ پالیسی میں دعوت اور جہاد دونوں نہایت اہم اصول ہیں اور ممکنہ طور پر یہی وہ اصول ہیں جن پر سب سے زیادہ علمی و فکری بحث ہوئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کے نقطۂ نظر سے بین الاقوامی تعلقات کی نوعیت کو یہ دونوں اصول سب سے بہتر انداز میں واضح کرتے ہیں۔
مسلمان مفکرین ان دونوں کو اس لیے یکجا بیان کرتے ہیں کہ اگر صرف دعوت پر اکتفا کیا جائے تو جنگ و امن کے متعلق اسلامی زاویۂ نظر نظرانداز ہو جاتا ہے اور اگر صرف جہاد پر زور دیا جائے تو دعوت کی روح ادھوری رہ جاتی ہے۔ اسلامی خارجہ پالیسی میں’’ دعوتِ دین اور جہاد‘‘ کو مربوط اور متوازن تصورکیاجاتا ہے، جو ایک دوسرے کی تکمیل کرتے اور مشترکہ طور پر اسلام کی بین الاقوامی حکمت عملی کی نمائندگی کرتے ہیں۔
اسلامی نظام کی خارجہ پالیسی کا ایک اور اہم ستون، غیر مسلم اقوام یا ریاستوں کے ساتھ کیے گئے معاہدوں اور معاہداتی ذمہ داریوں کی پاسداری ہے۔ قرآن کریم نے ایفائے عہد کی سخت تاکید کی ہے۔ تاہم، اسلامی ریاست ان معاہدوں کی پابندی صرف اس وقت تک کرے گی جب تک کہ وہ مسلمانوں کی سیاسی، عسکری یا ثقافتی خودمختاری کو خطرے میں ڈالنے کا سبب نہ بنیں۔ اگر کوئی معاہدہ مسلمانوں کو زیرِ دست بنائے یا ان کے اقتدار و اختیار کو مشکوک بنائے، تو ایسے معاہدے شرعاً درست نہیں۔
اسی اصول کا تقاضا ہے کہ کسی بھی سیاسی، عسکری، اقتصادی یا ثقافتی میدان میں کفار کو اسلامی معاشروں پر غلبہ حاصل نہ ہو۔ اسلامی خارجہ پالیسی کو اس انداز سے مرتّب کیا جانا چاہیے کہ وہ کفار کو مسلمانوں پر اثرانداز ہونے یا ان پر بالادستی حاصل کرنے کا موقع نہ دے۔
نتیجتاً کہا جا سکتا ہے کہ اسلامی عزت و وقار کا تحفظ، اسلامی خارجہ تعلقات کی بنیاد ہے۔ کیونکہ اسلام ایک آسمانی، مکمل دین ہے۔ اسلامی ریاست کو ایسی خارجہ پالیسی سے اجتناب کرنا چاہیے جو اسلام کی اصل تعلیمات کو کمزور یا مبہم کرنے کا سبب بنے۔
خلیج میں جاری صورت حال اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کا ثالثی کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ الحمد للہ ہماری بہتر ین خارجہ اور داخلہ پالیسی کی بدولت آج ہم فخر کرسکتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ مل کر پاکستان کو مضبوط اور مستحکم کریں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اسلام اور مملکتِ خداداد کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔(آمین)