• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محض الزام کی بناء پر کسی کو معزول نہیں کیاجاسکتا

فائل فوٹو
فائل فوٹو

تفہیم المسائل

سوال: کسی نمازی یا مسجد انتظامیہ کی امام مسجد سے ذاتی رنجش یا عداوت کی بناء پر امام پر مالی بدعنوانی کا الزام لگا کر امامت سے فارغ کیا جانا درست ہے؟ (مولانا جہانگیر نقشبندی، کراچی)

جواب: دنیا کی کسی عدالت میں محض الزام کی بناء پر فیصلہ نہیں سنایا جاتا، ملزَم سے مُجرِم تک کے سفر میں ثبوت وشواہد کا ہونا لازم ہے۔ جس طرح دنیا بھر کے تمام شعبۂ ہائے زندگی کے معاملات کا فیصلہ ثبوت وشواہد کے بغیر نہیں ہوتا، وہیں دین کے اس قدر اہم شعبے کے بارے میں اتنا عجلت پسندانہ فیصلہ کیونکر قابلِ قبول ہوسکتا ہے، ذاتی پسند نا پسند بھی کوئی معنیٰ نہیں رکھتی ،حق اور ثبوت وشواہد کی بنیاد پر کیے جانے والے فیصلے دنیا وآخرت میں سرخروئی کا سبب بنتے ہیں۔

مالی بدعنوانی ہو یا کردار کی خرابی، دونوں ہی کے لیے ثبوت وشواہد کے بغیر فیصلہ نہیں کیا جاسکتا اور محض الزام کی بناء پر کسی کو سزا نہیں دی جاسکتی، کسی ایسی بات کا الزام لگانے کے بارے میں، جو اس میں نہ پایاجاتا ہو، حدیث پاک میں سخت وعید بیان ہوئی ہے: ترجمہ: جو کسی مسلمان کے بارے میں ایسی بات کہے، جو اس میں نہیں پائی جاتی، تو اسے اللہ تعالیٰ اس وقت تک ’’رَدغۃ الخبال‘‘ میں رکھے گا ، جب تک اس کے گناہ کی سزا پوری نہ ہوجائے، (سُنن ابو داؤد)‘‘۔

’’رَدغَۃ الخَبال‘‘ سے مراد جہنم میں وہ جگہ جہاں دوزخیوں کے زخموں کی خون پیپ جمع ہوگی ۔ ترجمہ:’’ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کو کسی گناہ پر عار دلائے گا تو وہ اس وقت تک نہیں مرے گا، جب تک خود اس کام میں مبتلا نہ ہوجائے ، (سُنَن ترمذی)‘‘۔ نوٹ: اس حدیث کے آخر میں امام احمد بن منیع کا قول: ’’قَدْ تَابَ مِنہ‘‘ درج ہے، اس سے مراد: ایسا گناہ ہے جس سے وہ توبہ کرچکا ہو، اس سے حدیث کا مفہوم واضح ہوتا ہے۔

غرض ثبوت وشواہد کے بغیر الزام لگانے والے کے بارے میں حدیث مبارک میں سخت وعید آئی ہے۔خلاصۂ کلام یہ کہ جب تک مالی خیانت مالِ مسجد میں ثابت نہ ہو، محض الزام پرامام کو معزول کرنا درست نہیں ہے۔

علامہ زین الدین ابن نجیم حنفی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’قاضی(مُتولی کو) محض اس کی امانت میں طعن کے سبب اسے برطرف نہیں کرتا اورنہ ہی خیانت کے واضح ثبوت کے بغیر اسے نکال سکتا ہے، (البحرالرائق ،جلد 5‘‘۔

تنویر الابصار مع الد رالمختار میں ہے: ترجمہ:’’ اگر کسی شخص نے کسی ایسی قوم کی امامت کی جو اُسے ناپسند کرتے ہیں، پس اگرلوگوں کی ناپسندیدگی کا سبب امام میں کوئی شرعی یا اخلاقی خرابی ہے یا ا ِس بناء پر کہ وہ لوگ اُس امام کے مقابلے میں( شرعی معیار پر) امامت کے زیادہ حق دار ہیں، تو اُ س کی امامت (سنن ابو داؤد کی اِس حدیث کے سبب کہ: ترجمہ:’’اللہ تعالیٰ اُس شخص کی نماز قبول نہیں فرماتا، جو لوگوں کی ناپسندیدگی کے باوجود امامت کررہا ہو‘‘)

مکروہِ تحریمی ہے ، اوراگر وہ امام اُن لوگوں کے مقابلے میں (شرعی معیارکے مطابق) امامت کا زیادہ حق دار ہے، تو اس کے امام بننے میں کوئی کراہت نہیں ہے، البتہ امام کے بارے میں (خلافِ شرع نفرت) مقتدیوں کے لیے کراہت کا سبب ہے،(ردالمحتار علیٰ الدر المختار، جلد2)‘‘۔

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

darululoomnaeemia508@gmail.com

اقراء سے مزید