• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قرض کی واپسی پر زائد رقم کا مطالبہ کرنا جائز نہیں

تفہیم المسائل

سوال: میری اہلیہ نے مجھے2005ء میں کاروبار کے لیے ساڑھے پانچ لاکھ روپے بطور قرض دیئے، کاروبار میں نقصان ہوا، میں نے کاروبار ختم کردیا، لیکن2020ء میں میں نے اپنی اہلیہ کواپنی خوشی اور مرضی سے ساڑھے چھ لاکھ روپے ادا کردیے، لیکن میری اہلیہ کے بھائی بہن، بھانجے بھانجیاں بضد ہیں کہ ہمیں ایک کروڑ روپیہ دو تو ہمارا حساب پورا ہوگا، کیااُن کا زائد رقم مانگنا درست ہے، (عبداللہ ، راولپنڈی)

جواب: آپ کے بقول آپ نے اپنی اہلیہ سے ساڑھے پانچ لاکھ روپے بطور قرض لیے تھے،لہٰذا اس پر آپ کی اہلیہ زائد رقم کا مطالبہ نہیں کرسکتیں، اگر بڑھا کر وصول کریں گے ،تو یہ سود ہوگا، رسول اللہﷺ کا فرمان ہے: ترجمہ: ’’ ہر وہ قرض جو (اصل رقم پر زائد ) کسی منفعت کا باعث ہو ،تو ایسی منفعت سود ہے،(کنزالعمال)‘‘۔

البتہ اگر کوئی مقروض قرض کی واپسی کے وقت تبرُّعاً کچھ زائد دے دے تو یہ جائز ہے، حدیث پاک میں رسول اللہ ﷺ نے اس کی تحسین فرمائی ، بشرطیکہ یہ زیادتی نہ پہلے سے طے شدہ ہو اور نہ ہی معہود ہو۔ معہود ہونے کے معنی یہ ہیں کہ کسی کو بار بار کا تجربہ ہو کہ یہ شخص جب بھی قرض لیتا ہے، کچھ بڑھا کر دیتا ہے اور اسی اضافے کی امید پر وہ اُسے قرض دے،تو ان دو صورتوں میں یہ زیادتی رِبا ہے اور حرام ہے۔

آپ نے کسی مطالبے یا طے کیے بغیر اپنی خوشی سے اپنی اہلیہ کو اضافی رقم دی ہے، تو یہ سود نہیں کہلائے گی، حدیث پاک میں ہے: تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرض اچھی طرح ادا کرے، (صحیح بخاری)‘‘۔

البتہ اب اُن کی طرف سے زائد رقم کا مطالبہ جائز نہیں ہے ،2005ء میں لیے گئے ساڑھے پانچ لاکھ روپے قرض پر ایک کروڑ کا مطالبہ اُن کی طرف سے واضح طورپر اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول ﷺ سے جنگ کا اعلان ہے، ترجمہ:’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سود میں سے جو باقی رہ گیا ہے، وہ چھوڑ دو، اگر تم ایمان رکھتے ہو، پھر اگر تم ایسا نہ کرو تو اللہ اور اس کے رسول سے اعلان جنگ ہے، (سورۃالبقرہ) اگر رقم خاتون کی ذاتی تھی، تو اُن کے بھائی بہن، بھانجے بھانجیوں کا اس سے ویسے بھی کوئی تعلق نہیں بنتا، اُن کا مطالبہ گناہ پر معاونت ہے۔

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

darululoomnaeemia508@gmail.com

اقراء سے مزید