• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تفہیم المسائل

سوال: میرا ایک ذاتی مکان ہے، میری فیملی میں اہلیہ، ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں، سب شادی شدہ ہیں۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ اپنا مکان زندگی میں کسی کے نام نہ کروں، میرے بعد میری اہلیہ بھی اُسی میں رہے اور اہلیہ کی وفات کے بعد تقسیم ہو، اگر شرعاً ایسا ممکن ہے، تو میں وصیّت بنادوں کہ میرے بعد میری بیوی میری جائداد کی محافظ ہوگی، اُس کی وفات کے بعد جائداد شرعی طریقے پر تقسیم کی جائے، کیا یہ جائز ہے؟(ایک سائل)

جواب: سب سے پیشتر تویہ ہے کہ یہ کوئی نہیں جانتا کہ پہلے کون فوت ہوگا اور کون بعد میں ، کون وارث بنے گا اور کون مُورِث ، مُورِث(ترکہ چھوڑ کر فوت ہونے والا شخص) کی وفات کے بعد اُس کا سارا مال ترکہ بن جاتا ہے اور تمام ورثاء کا حق اُس سے متعلق ہوجاتا ہے، اُس میں ردّوبدل کا کسی کو بھی اختیار نہیں ہے۔پس اس وقت جو ورثاء زندہ ہوں گے، وہ ترکے سے اپنا حصہ پائیں گے۔

اگر تمام ورثاء بالغ ہیں تو فوری ترکے کی تقسیم کردی جائے گی، ایسی صورت میں کسی کو جائداد کا محافظ مقرر کرنا غیر ضروری اور ترکے کی تقسیم میں رکاوٹ کا سبب بنے گا۔

آپ کی خواہش کو بطور وصیّت بھی مؤثر نہیں مانا جاسکتا، کیونکہ بیوہ کا حصہ مقرر ہے، وہ وارث بنتی ہے اور شریعت کی رُو سے وارث کے حق میں وصیّت معتبر نہیں ہے، رسول اللہﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا تھا: ترجمہ: ’’اللہ تبارک وتعالیٰ نے (احکامِ وراثت میں )ہر وارث کو اُس کا حق دیدیا ہے، پس وارث کے حق میں وصیت جائز اور مؤثر نہیں ہے، (سنن ترمذی)کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے مقررہ قانونِ وراثت کو بدلنا ہے۔

مومن کے لیے بہتر یہی ہے کہ شریعت کا حکم بلاچوں وچرا مانے، اس میں اللہ کی حکمت ہے اور اسی میں خیر ہے، حُسنِ ظنّ سے کام لیں اوراپنی اولاد کو ماں کے ساتھ حُسنِ سلوک کی وصیت کریں، اگر آپ کی تربیت اچھی ہے توامید ہے، اولاد اپنی ماں کے لیے راحت کا سبب بنے گی۔ 

آپ کی دوسرے ورثاء سے پہلے وفات کی صورت میں کل ترکہ 32حصوں میں منقسم ہوگا، اس میں سے بیوہ کو چار حصے، بیٹے کو چودہ حصے اور دونوں بیٹیوں کو چودہ حصے(فی کس سات حصے) ملیں گے، مگر کسی کی وفات سے پہلے اس کے ترکے کا تعین نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اس کی ورثاء کے درمیان تقسیم کا فارمولا وضع ہوسکتا ہے۔ البتہ بیوی کو ہبہ کیاجاسکتا ہے، اداشدہ ہبہ مال پر قبضہ دینے سے ہبہ مکمل ہوجاتا ہے۔

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

darululoomnaeemia508@gmail.com

اقراء سے مزید