آپ کے مسائل اور ان کا حل
سوال: پرانی قبر میں نئی میّت کی تدفین شرعاً کیسی ہے؟ اگر جائز ہے تو مذکورہ قبر کم از کم کتنی پرانی ہونی چاہیے؟
جواب: پرانی قبر میں نئی میّت کی تدفین صرف اس صورت میں جائز ہے جب پرانی قبر اتنی پرانی ہو جائے کہ اس میں میّت بالکل مٹی بن جائے، قبر کھولتے ہوئے اس میں اگر سابقہ میّت کی ہڈیاں وغیرہ کچھ نکل آئیں تو انہیں قریب ہی دفن کردیا جائے یا اسی قبر میں ایک طرف علیحدہ کر کے ان ہڈیوں اور نئی میّت کے درمیان مٹی کی آڑ بنادی جائے۔
لیکن اگر قبر اتنی پرانی نہ ہو کہ سابقہ میّت بالکل مٹی ہوچکی ہو تو پھر اس قبر کو کھود کر اس میں دوسری میّت کو دفنانا جائز نہیں ہوگا۔ اس سلسلے میں اُس علاقے کے ماہرین اور ان معاملات میں تجربہ رکھنے والے لوگوں سے مشورہ کر کے قبر کھولنے نہ کھولنے کا فیصلہ کیا جائے۔ (ردّ المحتار، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب فی دفن الميّت، ج:2، ص:233، ط: سعيد)
اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
iqra@banuri.edu.pk